بنگلہ دیشی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے 10 افراد کو زبردستی بنگلہ دیشی حدود میں داخل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، جس کے بعد تمام افراد کو واپس بھارت بھیج دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع مولوی بازار کے جوری اپضلع کی کچورگل سرحد پر پیش آیا، جہاں مقامی رہائشیوں نے سرحدی علاقے میں مشکوک نقل و حرکت دیکھ کر فوری طور پر بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کو اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھیں:ملک سے فرار سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا بنگلہ دیش واپسی کا اعلان
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کی 52 ویں بٹالین کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل عطاؤر رحمان کے مطابق بی جی بی اہلکاروں نے مقامی افراد کی مدد سے 10 افراد کو اپنی تحویل میں لیا۔ ان میں 2 مرد، 7 خواتین اور ایک بچہ شامل تھا۔
بی جی بی نے حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت اور شہریت کی تصدیق کی، تاہم وہ بنگلہ دیشی شہریت ثابت کرنے کے لیے کوئی قانونی دستاویز پیش نہ کر سکے۔ حکام کے مطابق تصدیقی عمل مکمل ہونے اور یہ یقینی بنانے کے بعد کہ کوئی غیر قانونی دراندازی نہیں ہوئی، تمام افراد کو اسی رات واپس بھارت بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ میں نیا بحران، سابق صدر نے آئی سی سی سے بڑا مطالبہ کر دیا
لیفٹیننٹ کرنل عطاؤر رحمان نے کہا کہ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش غیر قانونی دراندازی یا سرحد پار افراد کو دھکیلنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور سرحدی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ہر وقت چوکس ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد جوری سرحدی علاقے میں بی جی بی نے گشت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔














