یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد نئی ٹیلیکام کمپنی کی انتظامیہ نے کمپنی کی ری برانڈنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس نئی برانڈ شناخت کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوفون، اونک اور ٹیلی نار 5 جی سروسز فراہمی کے لیے تیار، اسپیکٹرم حاصل کرلیا
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی حتمی منظوری کے بعد ٹیلی نار پاکستان کو باضابطہ طور پر پاک ٹیلیکام موبائل لمیٹڈ میں ضم کر دیا گیا، جو یوفون کا قانونی نام ہے، نئی کمپنی کے لیے ای اینڈ کے نام پر غور کیا جارہا ہے، جو متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی اتصالات کی نئی برانڈ شناخت ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے نئی برانڈنگ کی منظوری کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے ضم شدہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے متعلق نوٹیفکیشن طلب کیا ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ ایس ای سی پی کی منظوری کے بغیر نئی برانڈنگ یا تشہیری مہم شروع نہیں کی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیلی نار پاکستان باضابطہ طور پر یوفون میں ضم ہوگیا
دوسری جانب وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک سینئر عہدیدار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ای اینڈ نام اختیار کرنے پر قانونی اعتراضات سامنے آسکتے ہیں، کیونکہ پاک ٹیلیکام موبائل لمیٹڈ بدستور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے، نہ کہ براہِ راست اتصالات کے ماتحت ادارہ۔
عہدیدار کے مطابق اگر نئی کمپنی یہی برانڈ نام اختیار کرتی ہے تو اسے بین الاقوامی برانڈ کے حقوق سے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنا ہوں گے یا ممکنہ طور پر اتصالات کو رائلٹی ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔














