سپریم کورٹ نے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کی قانونی اہلیت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر محتسب کو قانون کا ہی علم نہ ہو تو وہ انصاف کیسے فراہم کرے گا۔
مزید پڑھیں:بلدیہ فیکٹری سانحہ: سپریم کورٹ نے سزائے موت پانے والے 2 ملزمان بری کردیے، تفصیلی فیصلہ جاری
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی محتسب کی اپیل میں خود لکھا گیا ہے کہ انہیں قانون کا علم نہیں، جبکہ اس حوالے سے بیانِ حلفی بھی جمع کرایا گیا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کے پاس لوگ انصاف کے حصول کے لیے جاتے ہیں، لیکن اگر انہیں قانون کا ہی علم نہ ہو تو سائلین کو ریلیف کیسے ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کی اپیل زائد العباد ہے اور سوال اٹھایا کہ قانون کے علم کے بغیر اپیل کیسے دائر کی گئی۔
وفاقی محتسب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں قانونی سوال یہ ہے کہ آیا سروس ٹریبونل وفاقی محتسب کے ملازمین کے مقدمات سننے کا اختیار رکھتا ہے یا نہیں۔
دورانِ سماعت جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کی چیئرمین کون ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ فوزیہ وقار اس عہدے پر فائز ہیں۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ کا ٹرمپ کی اپیل سننے سے انکار، ای جین کیرول کو 50 لاکھ ڈالر ملیں گے
اس پر جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ کیا عدالت ایسی چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق آبزرویشن دے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیوں نہ اپیل جرمانے کے ساتھ خارج کر دی جائے۔
بعد ازاں وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کے وکیل نے اپیل واپس لے لی، جس پر سپریم کورٹ نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اپیل خارج کر دی۔














