نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی مالی اور انتظامی کارکردگی سے متعلق آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 25-2024 میں سنگین مالی بے ضابطگیوں، گورننس کی کمزوریوں اور شفافیت و احتساب کے فقدان کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیپرا نے ریکارڈ مالی سرپلس حاصل کرنے کے باوجود اپنے ہی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پوری رقم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے ریگولیٹری فیسوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا
آڈٹ رپورٹ 26-2025 کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران نیپرا کی مجموعی جامع آمدن ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد رہی، تاہم ادارے نے وفاقی خزانے میں صرف 92 کروڑ 19 لاکھ روپے منتقل کیے جبکہ تقریباً 88 کروڑ 39 لاکھ روپے اپنے پاس رکھ لیے، جو نیپرا ایکٹ 1997 کی دفعہ 17 کی صریح خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔
اس قانون کے تحت ٹیکس کی ادائیگی کے بعد تمام اضافی فنڈز فوری طور پر وفاقی خزانے میں جمع کرانا لازم ہے۔
Audit Report Reveals Major Financial Lapses at Nepra
FOR MORE DETAILS: https://t.co/Kr2390OmRh#Audit #Report #Reveals #FinancialLapses #Nepra #Islamabad #TTI pic.twitter.com/1J1Ts0QBdE
— The Truth International (@ttimagazine) July 7, 2026
رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران وفاقی حکومت کو قابل ادائیگی رقم 22 کروڑ 19 لاکھ روپے سے بڑھ کر 88 کروڑ 39 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جس سے ادارے کے مالی نظم و ضبط اور ترجیحات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ آڈیٹرز نے نشاندہی کی کہ نیپرا نے حکومتی واجبات ادا کرنے کے بجائے داخلی اخراجات کو ترجیح دی۔
آڈٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نیپرا نے اپنی منظور شدہ اکاؤنٹنگ پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے آمدن کو اکرول بیسز کے بجائے کیش بیسز پر ظاہر کیا، جس کے باعث تقریباً 9 کروڑ 13 لاکھ روپے کی آمدن مالی ریکارڈ میں شامل نہیں ہو سکی۔ رپورٹ کے مطابق اس غلط رپورٹنگ سے نیپرا کے مالی بیانات کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: پرانے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے معاہدوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی، نیپرا کا ترمیمی نوٹیفکیشن جاری
مزید برآں، نیپرا لائسنس یافتہ کمپنیوں سے 16 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد کے واجبات وصول کرنے میں بھی ناکام رہا۔ اگرچہ اس رقم کو مشکوک قرض قرار دیا جا چکا ہے، تاہم کئی برس گزرنے کے باوجود نہ اسے ریکارڈ سے خارج کیا گیا اور نہ ہی اس کی وصولی کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے، جسے نفاذی نظام کی ناکامی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملازمین کو دیے گئے قرضوں اور ایڈوانسز میں 51 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت تقریباً 98 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دوسری جانب وفاقی حکومت کے واجبات بھی مسلسل بڑھتے رہے، جو کمزور مالی منصوبہ بندی اور غیر متوازن اخراجاتی ترجیحات کی نشاندہی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: نیپرا نے بجلی ویلنگ آکشن کی منظوری دے دی، یہ نظام ہے کیا؟
اگرچہ مالی اشاریوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جن میں سرپلس، اثاثوں پر منافع، سرمایہ کاری پر منافع اور ایکویٹی پر منافع شامل ہیں، تاہم آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ مالی کامیابیاں بہتر گورننس، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور ادارہ جاتی نظم و ضبط میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔
آڈٹ رپورٹ میں نیپرا کے کیش مینجمنٹ سسٹم پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سرپلس فنڈز ٹیکس واجبات اور ایڈوانس ٹیکس ایڈجسٹمنٹ میں پھنسے رہنے کے باعث بروقت وفاقی خزانے میں منتقل نہیں کیے گئے، جس سے مالی شفافیت مزید متاثر ہوئی۔
مزید پڑھیں: سولر سسٹم صارفین کے لیے نیپرا لائسنس لازمی قرار، کتنی فیس ادا کرنی ہوگی؟
رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ملک کے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر کی حیثیت رکھنے والا ادارہ اندرونی کنٹرول، مالی نظم و ضبط، قانون پر عملدرآمد اور احتساب کے مؤثر نظام کے حوالے سے سنگین کمزوریوں کا شکار ہے۔
آڈیٹرز نے فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ان خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد اور نیپرا کی ادارہ جاتی ساکھ مزید متاثر ہو سکتی ہے۔













