زمین اپنے سالانہ مدار کے دوران پیر کے روز سورج سے سب سے زیادہ فاصلے پر پہنچ گئی جسے فلکیات کی اصطلاح میں ایفیلیئن کہا جاتا ہے۔ اس موقعے پر زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ تقریباً 15 کروڑ 20 لاکھ کلومیٹر ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سورج زمین کو نہیں نگل سکے گا، نئی تحقیق نے پرانا سائنسی نظریہ چیلنج کر دیا
سعودی ماہرین فلکیات کے مطابق یہ قدرتی فلکیاتی واقعہ ہر سال پیش آتا ہے اور زمین کے بیضوی مدار کا حصہ ہے۔ اس سال یہ لمحہ مکہ مکرمہ کے وقت کے مطابق رات 8 بج کر 30 منٹ پر آیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ گرمی یا سردی کی شدت کا تعلق زمین کے سورج سے قریب یا دور ہونے سے ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ موسموں کی تبدیلی کا اصل سبب زمین کا اپنے محور پر تقریباً 23.4 درجے جھکاؤ ہے نہ کہ سورج سے اس کا فاصلہ۔
شمالی نصف کرے میں اس وقت گرمیوں کا موسم جاری ہے کیونکہ زمین کا جھکاؤ سورج کی روشنی کو زیادہ براہِ راست اس خطے تک پہنچنے دیتا ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت بلند رہتا ہے حالانکہ زمین اسی دوران سورج سے اپنے سالانہ سفر میں سب سے زیادہ دور ہوتی ہے۔
جدہ فلکیاتی سوسائٹی کے سربراہ ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ زمین کا مدار مکمل دائرہ نہیں بلکہ بیضوی شکل کا ہے جس کی وجہ سے سال بھر میں سورج سے اس کا فاصلہ تقریباً 50 لاکھ کلومیٹر تک کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔
مزید پڑھیے: زمین کی طرف بڑھتی ہوئی رصد گاہ کو بچانے کے لیے ناسا کا غیر معمولی آپریشن
انہوں نے کہا کہ ایفیلیئن کے دوران سورج آسمان پر معمول سے کچھ چھوٹا دکھائی دیتا ہے تاہم یہ فرق اتنا معمولی ہوتا ہے کہ خصوصی آلات کے بغیر اسے محسوس کرنا ممکن نہیں۔
ماجد ابو زہرہ کے مطابق سورج سے زیادہ فاصلے پر ہونے کے باعث زمین اپنے مدار میں نسبتاً آہستہ رفتار سے سفر کرتی ہے جس کی وجہ سے شمالی نصف کرے میں گرمیوں کا موسم سردیوں کے مقابلے میں معمولی طور پر زیادہ طویل ہوتا ہے۔
دوسری جانب نور فلکیاتی سوسائٹی کے صدر عیسیٰ الغفیلی نے بھی واضح کیا کہ ایفیلیئن کا موسموں کی تبدیلی یا زمین تک پہنچنے والی شمسی توانائی پر کوئی براہ راست اثر نہیں پڑتا۔
انہوں نے کہا کہ موسموں کا انحصار صرف زمین کے محوری جھکاؤ پر ہے جبکہ سورج سے فاصلے میں کمی بیشی ایک قدرتی فلکیاتی عمل ہے۔ ان کے مطابق شمالی نصف کرے میں ایفیلیئن گرمیوں کے دوران جبکہ پیری ہیلیئن یعنی زمین کا سورج کے سب سے قریب پہنچنے کا مرحلہ سردیوں میں آتا ہے۔
مزید پڑھیں: روس میں آسمان پر ایک ساتھ 2 سورج نظر آنے کا انوکھا منظر مگر ایسا ہوتا کیوں ہے؟
ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ ایسے فلکیاتی واقعات عوام کو زمین کی حرکت، نظامِ شمسی اور کائناتی مظاہر کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی موسموں کی تبدیلی سے متعلق عام غلط فہمیوں کی بھی درست وضاحت کرتے ہیں۔














