پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں اصلاحات کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال، قیمتوں کے تعین کے مختلف طریقہ کار اور نظام میں شفافیت لانے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے مختلف ماڈلز پر غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوئیں تو ریلیف عوام کو منتقل کریں گے، وزیر پیٹرولیم
کمیٹی نے سفارش کی کہ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے بینچ مارک سے آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ قیمتوں کے تعین کا عمل زیادہ شفاف بنایا جا سکے۔
اجلاس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پیٹرولیم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کو صوابدیدی فیصلوں سے پاک، ایک منظم اور شفاف نظام کے تحت چلایا جائے۔
اس کے علاوہ تیل کی سپلائی چین کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی اتفاق رائے پایا گیا، جبکہ شفافیت اور مؤثر نگرانی کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال سے توانائی منڈیوں میں غیر یقینی
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جس کے بعد پیٹرولیم قیمتوں سے متعلق قائم کمیٹی کی ذمہ داری مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بنگلہ دیش، سری لنکا اور ترکیہ کے مقابلے میں کم جبکہ بھارت کے قریباً مساوی سطح پر ہیں۔
مقامی ڈیزل پیداوار بڑھانے کی تجویز
وفاقی وزیر نے بتایا کہ درآمدی ڈیزل پر انحصار کم کرنے کے لیے ریفائنری پالیسی میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ڈیزل کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف درآمدی انحصار کم کرےگا بلکہ پاکستان کی توانائی سلامتی کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کا نظام بدلنے کی تیاری، اب قیمتیں کیسے طے ہوں گی؟
علی پرویز ملک نے مزید کہاکہ پیٹرولیم پرائسنگ کمیٹی کا آئندہ اجلاس حتمی نوعیت کا ہوگا، جس کے بعد کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرےگی۔














