سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین کے گرد موجود ایک اہم سیٹلائٹ کے مدار میں خلائی ملبے کے ایسے چھوٹے ٹکڑے موجود ہیں جو اب تک نظر سے اوجھل تھے اور مستقبل میں سیٹلائٹس کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف واروک کے محققین نے جیو اسٹیشنری مدار کے قریب خلائی ملبے کے 25 ایسے نشانات دریافت کیے ہیں جن کی پہلے نشاندہی نہیں ہوئی تھی۔ یہ ملبہ تقریباً 2 انچ تک کے چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کے خلائی جہاز کی 14 سال بعد زمین پر واپسی، کیا لوگوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟
جیو اسٹیشنری مدار زمین کی سطح سے تقریباً 22 ہزار میل کی بلندی پر واقع ہے، جہاں دنیا کے کئی قیمتی اور اہم سیٹلائٹس کام کرتے ہیں۔
یہ مدار اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں موجود سیٹلائٹس زمین کی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں اور خط استوا کے ایک ہی مقام کے اوپر مسلسل موجود دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ ٹیلی وژن نشریات، انٹرنیٹ رابطوں، موسمی مشاہدات اور زمین کی نگرانی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف اور خلائی مشیر اسٹیورٹ ایوز نے کہا کہ یہ علاقہ ایک بارودی سرنگوں والے میدان کی طرح بنتا جارہا ہے، جہاں کوئی بھی نیا سیٹلائٹ بھیجنے سے پہلے اردگرد موجود خطرات کو یقینی طور پر جانچنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پُراسرار چیز جلتے ہوئے آسمان سے نیچے آگری، ویڈیو وائرل
محققین نے کوئی نئی تصاویر حاصل نہیں کیں بلکہ پہلے سے موجود مشاہداتی معلومات کا استعمال کیا، جو کینری جزائر میں قائم 8.3 فٹ آئزک نیوٹن دوربین کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ ان معلومات کو جدید تصویری تجزیاتی نظام کے ذریعے جانچا گیا۔
یونیورسٹی آف واروک کے خلائی تحقیق مرکز سے وابستہ ڈاکٹر بین کوک نے بتایا کہ اس عمل میں تصاویر کے مختلف راستوں کو جانچ کر ان مدھم حرکت کرنے والی اشیاء کو تلاش کیا گیا۔
تحقیق کے دوران خلائی ملبے کے 25 ایسے نشانات سامنے آئے جو پہلے دریافت نہیں ہوئے تھے، جن میں سے 80 فیصد کا تعلق ایسے نامعلوم اجسام سے تھا۔
سائنس دانوں کے مطابق زمین کے نچلے مدار میں موجود خلائی ملبہ عموماً ماحول کی رگڑ کے باعث واپس آ کر ختم ہو جاتا ہے، لیکن جیو اسٹیشنری مدار میں موجود ملبہ کسی فضائی رگڑ سے متاثر نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: زمین کو ممکنہ خطرناک سیارچوں سے بچانے کی نئی امید پیدا ہوگئی
تحقیق کے شریک مصنف جیمز بلیک کے مطابق اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ ملبہ مستقل نوعیت اختیار کر لیتا ہے اور اسے تلاش کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ان سیٹلائٹس کے لیے خطرہ ہے جو اس مدار میں کام کررہے ہیں، کیونکہ یہ سیٹلائٹس بہت بڑے اور مہنگے ہوتے ہیں، جن کے شمسی پینل تقریباً 100 فٹ تک پھیلے ہوتے ہیں۔














