ووکس ویگن کا 90 سالہ تاریخ کا بڑا فیصلہ: گاڑیوں کے ماڈلز آدھے، پیداوار میں لاکھوں یونٹس کی کمی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرمنی کی معروف آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن نے اپنے مستقبل کے منصوبے کے تحت گاڑیوں کے ماڈلز کی تعداد میں نمایاں کمی اور پیداواری صلاحیت محدود کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاہم کمپنی نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر ملازمتیں ختم کرنے کے کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: جرمن آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی، وجہ کیا ہے؟

یورپ کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی نے میڈی کو بتایا کہ آنے والے برسوں میں اس کے ماڈلز کی تعداد بتدریج تقریباً نصف تک کم کی جائے گی تاکہ کمپنی اپنی توجہ مارکیٹ کے زیادہ منافع بخش اور اہم شعبوں پر مرکوز کر سکے۔

کمپنی کے مطابق گاڑیوں کی سالانہ پیداواری صلاحیت کو بھی کم کر کے 90 لاکھ یونٹس تک لایا جائے گا جبکہ کورونا وبا سے پہلے کمپنی کا ہدف ایک کروڑ 20 لاکھ گاڑیاں سالانہ تیار کرنا تھا۔

ووکس ویگن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اولیور بلوم نے کہا کہ مستقبل کے منصوبے کے ذریعے کمپنی تبدیلی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کا مقصد ووکس ویگن گروپ کو زیادہ تیز رفتار، مضبوط اور عالمی مقابلے کے لیے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

یہ اعلان کمپنی کے نگران بورڈ کے ساتھ اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ووکس ویگن جرمنی میں چار فیکٹریاں بند کرنے اور ایک لاکھ ملازمتیں ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

مزید پڑھیے: جون ایلیا کے خاندان کی ووکس ویگن گاڑی راولپنڈی میں شاندار انداز میں بحال

اگر یہ منصوبہ نافذ کیا جاتا ہے تو یہ کمپنی کی تقریباً 90 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی تنظیم نو تصور کی جائے گی۔ تاہم جرمن سیاست دانوں اور طاقتور مزدور یونینز نے اس کی مخالفت کی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ووکس ویگن کے مزدور نمائندوں نے جمعرات کے اجلاس میں کمپنی کی تنظیم نو کے منصوبے کی مخالفت کی۔ ووکس ویگن نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا۔

کمپنی پہلے ہی بڑے پیمانے پر ملازمتوں میں کمی اور نئی مصنوعات متعارف کرانے کے منصوبوں کا اعلان کر چکی ہے کیونکہ اسے امریکا کی درآمدی پابندیوں، چینی کار ساز کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مقابلے اور عالمی آٹو مارکیٹ کے دباؤ کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مجوزہ ملازمتوں میں کمی کا حجم پہلے اعلان کردہ 50 ہزار ملازمتوں سے دگنا ہو سکتا ہے جبکہ ممکنہ طور پر جرمنی میں ہینوور، زوِکاؤ، ایمنڈن اور آڈی کی نیکارسلم فیکٹری کو بند کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی نئی آٹو ٹیرف دھمکی، یورپی گاڑیوں کے حصص گرگئے

یہ منصوبہ گزشتہ ماہ جرمن میگزین منیجر میگزین نے رپورٹ کیا تھا۔

مالیاتی ادارے جیفریز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووکس ویگن کے بحالی منصوبے میں نئی معلومات محدود ہیں اور اس بات کے کوئی واضح آثار نہیں کہ فیکٹریوں کی بندش، 5 سالہ سرمایہ کاری منصوبے یا ایک لاکھ تک ملازمتوں میں کمی کے معاملے پر کوئی حتمی اتفاق رائے ہوا ہے۔

’مشکلات کا طوفان‘

ووکس ویگن کی جنرل ورکس کونسل اور جرمنی کی صنعتی یونین آئی جی میٹل نے ممکنہ ملازمتوں میں کمی اور فیکٹریوں کی بندش کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو جرمنی کے شہر زوِکاؤ میں ووکس ویگن فیکٹری کے باہر آئی جی میٹل کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔

 

کمپنی کے حصص جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں تقریباً 0.8 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہے تھے۔ ووکس ویگن کے شیئرز رواں سال اب تک 30 فیصد سے زیادہ گر چکے ہیں اور حالیہ عرصے میں 2010 کے بعد کی کم ترین سطح کے قریب رہے ہیں۔

مالیاتی ماہر ہیننگ گیب ہارٹ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ووکس ویگن کو ایک مشکلات کے طوفان کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹويوٹا نے سال 2025 میں کتنی گاڑیاں فروخت کیں؟ حیران کن اعدادوشمار سامنے آگئے

انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں سے سخت مقابلہ، چین میں منافع میں کمی، درآمدی محصولات اور ایسی نئی گاڑیوں کی کمی جو صارفین کو زیادہ پسند آئیں کمپنی کے لیے بڑے چیلنجز ہیں، جبکہ مجموعی طور پر آٹو انڈسٹری بھی دباؤ کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp