وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور حالیہ حملوں کے تناظر میں قطری عوام کے ساتھ پاکستان کی ‘مکمل یکجہتی اور حمایت’ کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان انتہائی خوشگوار اور پرتپاک ماحول میں گفتگو ہوئی، جس میں علاقائی سلامتی، سفارتی کوششوں اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحمل اور علاقائی امن کی اپیل
دورانِ گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر بات کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
امن کوششوں میں قطر کی حمایت پر شکریہ
وزیراعظم نے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘ اور برگن اسٹاک میں اعلیٰ سطح کے تکنیکی مذاکرات کے پہلے دور کے انعقاد تک پہنچنے والی امن کوششوں کا خصوصی ذکر کیا۔
Islamabad: 10 July 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a warm and cordial telephone conversation today with the Amir of the State of Qatar, His Highness Sheikh Tamim bin Hamad Al Thani.
During their discussion, the Prime Minister expressed his deep concern over… pic.twitter.com/GBbjyE6WPm
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) July 10, 2026
انہوں نے ان تمام سفارتی کوششوں میں قطر کی مستقل اور غیرمتزلزل حمایت پر امیرِ قطر کا دلی شکریہ ادا کیا۔
سفارتی روابط اور وعدوں پر عملدرآمد ناگزیر
پاک قطر سربراہان نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی روابط اور بامعنی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ امن مفاہمتی یادداشت کے تحت تمام فریقین کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
پاکستانی قیادت کے قائدانہ کردار کی تحسین
امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ‘قائدانہ کردار’ کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ قطر اس سلسلے میں پاکستان کی مسلسل حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر سے بھی گفتگو
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کر کے خطے میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
وزیراعظم ہاؤس کے میڈیا ونگ سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں علاقائی صورتحال، باہمی تعاون اور امن و استحکام سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تحمل اور امن کی فوری بحالی پر زور
دورانِ گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خطے کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور دیگر تمام فریقین ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
ادھر ایگزیوس اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے اور جوہری معاہدے سے متعلق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بچانے کے لیے قطر، پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت کئی علاقائی ممالک نے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔
ایگزیوس اخبار نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ثالثی کرنے والے ممالک دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں۔
ٹرمپ جنگ سے گریز چاہتے ہیں، مگر ایران پر دباؤ برقرار
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کو ختم قرار دیتے ہوئے ایران پر دو مرحلوں میں فضائی حملوں کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر کو فون، خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار، فریقین سے تحمل کی اپیل
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی مکمل جنگ سے بچنا چاہتے ہیں اور ان کی توجہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ محفوظ اور کھلا رکھنے پر مرکوز ہے۔
ثالث معاہدہ ٹوٹنے سے روکنے کے خواہاں
ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ثالثی کے عمل میں شامل 2 علاقائی ذرائع کے مطابق ان ممالک کا خیال ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود سابقہ مذاکرات میں جوہری معاہدے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی تھی، اس لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ناکام ہونے سے بچانا ضروری ہے۔
قطری وفد ایران پہنچ گیا
ایگزیوس کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے امریکی رابطہ کاری سے قطر کے مذاکرات کار جمعہ کو ایران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی حکام سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات پر بات چیت کی۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی، ہم نے رضا مندی ظاہر کردی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
ایگزیوس کے مطابق مشہد میں قطری اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقاتیں جاری ہیں اور دونوں فریق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاکستان سمیت 5 ممالک کے مسلسل سفارتی رابطے
ایگزیوس کے مطابق قطر، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے اعلیٰ حکام نے بدھ اور جمعرات کے دوران امریکی اور ایرانی حکام سے متعدد ٹیلیفونک رابطے کیے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی راہ ہموار ہو۔
تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش
ایگزیوس کے مطابق ثالثی میں شامل ایک علاقائی ذریعے نے بتایا کہ سفارتی کوششوں کا پہلا مقصد دونوں ممالک کو کشیدگی میں کمی پر آمادہ کرنا ہے، جس کے بعد تکنیکی ماہرین کے درمیان جوہری مذاکرات کے نئے دور کی تاریخ طے کی جائے گی۔
کشیدگی میں عارضی کمی
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دو روز تک جاری جوابی کارروائیوں کے بعد جمعرات کو صورتحال نسبتاً پرسکون رہی۔
مزید پڑھیں:2 روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بندوقیں خاموش، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز
اگرچہ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے جنوبی ایران میں دھماکوں کی اطلاعات دیں، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا کہ امریکی فوج نے جمعرات کو کوئی نیا حملہ نہیں کیا۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ پیش رفت ثالثی کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
امریکا مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایران کی صورتحال پر اہم اجلاس بھی کیا۔ اجلاس کے بعد ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اب بھی مسئلے کا سفارتی حل چاہتی ہے اور جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔














