گوادر بندرگاہ پر پہلی مرتبہ بین الاقوامی معیار کے بحری ایندھن کی فراہمی کا کامیاب آپریشن مکمل کر لیا گیا، جسے پاکستان کے میری ٹائم اور بلیو اکانومی شعبے کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے متحدہ عرب امارات کے ایل این جی جہاز کو مقامی ریفائنری میں تیار کردہ کم سلفر والا ایندھن فراہم کیا گیا۔
گوادر بندرگاہ پر بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے (بنکرنگ) کا پہلا کامیاب آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جسے پاکستان کے میری ٹائم شعبے کی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) نے عالمی توانائی کمپنی وٹول (Vitol) کے تعاون سے گوادر پورٹ پر اپنی پہلی بنکرنگ سروس انجام دی۔ اس دوران متحدہ عرب امارات کی ملکیت کے ایل این جی جہاز اینوگو (ENUGU) کو 2,500 میٹرک ٹن انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے معیار کے مطابق ویری لو سلفر فیول آئل (VLSFO) فراہم کیا گیا۔
A Great Step Forward for Gwadar Port!
In a historic first, NLC-Vitol has successfully refuelled a ship at Gwadar Port. They supplied 2,500 metric tons of clean ship fuel (made in Pakistan at Cnergyico refinery) to a large LNG vessel named ENUGU from the UAE. This marks an… pic.twitter.com/ONlRfelV6r
— The Balochistan Diaries (TBD) (@BalochDiaries) July 11, 2026
اس آپریشن میں استعمال ہونے والا ایندھن پاکستان کی مقامی ریفائنری سینرجیکو پی کے لمیٹڈ (Cnergyico PK Limited) نے تیار کیا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اب بین الاقوامی معیار کے بحری ایندھن کی مقامی سطح پر تیاری کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کامیاب آپریشن سے گوادر بندرگاہ عالمی بحری جہازوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور اہم متبادل بنکرنگ مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث روایتی بحری راستوں اور ایندھن کی فراہمی کے مراکز کو درپیش مشکلات کے تناظر میں گوادر عالمی شپنگ انڈسٹری کے لیے محفوظ، مؤثر اور قابلِ اعتماد آپشن فراہم کر سکتا ہے، جس سے پاکستان کی بلیو اکانومی کو بھی فروغ ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں:روس کی حمایت سے گوادر پورٹ کو عالمی تجارتی راہداری سے جوڑنے کی پیشرفت
سینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے کہا کہ گوادر میں کامیاب بنکرنگ آپریشن وٹول کے ساتھ کمپنی کی شراکت داری کا ایک اور اہم سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دس ماہ سے کمپنی کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر بھی وٹول کے اشتراک سے ویری لو سلفر فیول آئل کی مسلسل فراہمی کر رہی ہے، جبکہ اب گوادر تک اس سہولت کی توسیع پاکستان کی تیسری تجارتی بندرگاہ کی استعداد بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے وزیراعظم کی میری ٹائم ٹاسک فورس، وزارتِ بحری امور، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، گوادر پورٹ اتھارٹی اور این ایل سی کا اس منصوبے کی کامیابی میں تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔













