تبوک کے علاقے تیما میں واقع ‘حجاج کنواں’ جزیرہ نما عرب کے قدیم ترین اور اہم ترین تاریخی کنوؤں میں سے ایک ہے۔ شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی جانب سے شائع کردہ انسائیکلوپیڈیا آف دی کنگڈم آف سعودی عرب کے مطابق، یہ شاندار تعمیراتی شاہکار 6 صدی قبل مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں:عہد نبویؐ کا کنواں اور اس کی فضلیت
اس کنویں کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
تاریخی اہمیت اور علامت: اپنے وافر پانی کی بدولت یہ کنواں مقامی روایات میں مہمان نوازی اور سخاوت کی ایک پائیدار علامت بن چکا ہے۔
ساخت اور پیمائش: یہ کنواں باریک بینی سے تراشے گئے پتھروں سے تعمیر کیا گیا ہے، جس کا محیط 65 میٹر اور گہرائی 11 سے 12 میٹر کے درمیان ہے۔
قدیم صلاحیت: اپنے عروج کے دور میں، اس کنویں سے 31 پتھر کے پائپوں کے ذریعے پانی نکالا جاتا تھا، جو گرمیوں کے سخت موسم میں ایک ہی وقت میں 100 اونٹوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہوتا تھا۔
بحالی اور سیاحت: یہ کنواں 1373ھ (1954ء) تک روایتی لکڑی کے پہیوں کے ذریعے مقامی رہائشیوں، قریبی کھیتوں اور بدو قبائل کو پانی فراہم کرتا رہا۔
مزید پڑھیں:موت کا کنواں: ایک صدی پرانا خطرناک تماشا جو آج بھی دلوں کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے
سن 1433ھ (2012ء) میں ایک جامع بحالی کے منصوبے کے بعد، اسے ایک نمایاں آثار قدیمہ اور سیاحتی مقام میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ آج بھی، اس تاریخی کنویں کا پانی رواں دواں ہے، جو خطے کے قدیم ماضی کو حال سے جوڑ رہا ہے۔














