سپریم کورٹ روایتی نظام سے مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی جانب گامزن

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے نظامِ فراہمیٔ انصاف کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے تمام زیرِ التوا مقدمات کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن مکمل کر لی ہے۔

اس اقدام کا مقصد انصاف کو زیادہ قابلِ رسائی، شفاف، مؤثر اور جوابدہ بنانا ہے، جبکہ عدالتی اور انتظامی امور کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر 44 ہزار 995 زیرِ التوا مقدمات کی فائلیں سرچ ایبل او سی آر فارمیٹ میں اسکین کر لی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں عدالتی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور ای آفس سسٹم کا آغاز

ان مقدمات کو بارکوڈ، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور کیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔

یہ تمام عمل سپریم کورٹ کے معمول کے عدالتی کام کو متاثر کیے بغیر مکمل کیا گیا، جبکہ ڈیجیٹائز کیے گئے مقدمات میں سے 11 ہزار 999 مقدمات کا فیصلہ بھی کیا جا چکا ہے۔

سپریم کورٹ نے پہلی مرتبہ تمام زیرِ التوا مقدمات کی منظم درجہ بندی بھی مکمل کی ہے، جو معزز ججز کی کمیٹی کے تیار کردہ فریم ورک کے تحت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں ای-جوڈیشری کا آغاز، سپریم کورٹ نے نظام جدید بنا دیا

کیٹیگرائزیشن سیل کی معاونت سے ہر مقدمے کو اس کے دائرۂ اختیار اور نوعیت کے مطابق تقسیم کیا گیا۔

اس اقدام سے بہتر کیس مینجمنٹ، مؤثر شیڈولنگ، عدالتی وسائل کی ترجیحی تقسیم اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔

سپریم کورٹ کی ڈیجیٹل اصلاحات صرف ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن تک محدود نہیں رہیں بلکہ ادارے میں الیکٹرونک فائلنگ، کیو آر کوڈ سے تصدیق شدہ مصدقہ نقول، عدالتی خدمات کے لیے آن لائن درخواستوں، وکلا کے ڈیجیٹل انرولمنٹ اور عدالتی فیس کی الیکٹرانک ادائیگی کی سہولیات بھی متعارف کرائی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے حامل جدید اقدامات شروع کردیے

اس مقصد کے لیے ون لنک اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے ادائیگی کا نظام بھی فعال بنایا گیا ہے۔

مزید برآں سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں کو ادارہ جاتی سطح پر فعال کیا گیا ہے، جبکہ پبلک فیسلیٹیشن سینٹر کے ذریعے شہریوں کو 35 ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ایک مربوط آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے عدالتی خدمات تک عوام کی رسائی بہتر بنائی گئی ہے، جس سے عوامی سہولت میں اضافہ اور جسمانی رکاوٹوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا چین کے ساتھ عدالتی تعاون مزید مضبوط بنانے کا عزم

ادارے کے انتظامی امور کو بھی بتدریج گورنمنٹ ای آفس پلیٹ فارم پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے کاغذ سے پاک یعنی پیپر لیس سرکاری کارروائی ممکن ہو رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے مطابق ادارہ روایتی کاغذی نظام سے ایک مربوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی جانب گامزن ہے، جو مؤثر کیس مینجمنٹ، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، خودکار عدالتی نظام، جوڈیشل اینالیٹکس اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

سپریم کورٹ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ادارہ جاتی استعدادِ کار کو مضبوط بنانے، انصاف کی فراہمی کو مزید مؤثر بنانے اور شفافیت، آئینی اصولوں، عدالتی آزادی، ڈیو پراسیس اور عوامی خدمت کے فروغ کے لیے ڈیجیٹل اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیزا بنائے گا روبوٹ یا انسان؟ مہنگے تجربات کے بعد مشینی پیزا کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا

’آپریشن کردیا، پھر کہا خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں‘، کراچی کے اسپتال میں بچے کے غائب ہونے کا عجیب واقعہ

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری

لداخ میں احتجاج روکنے کے لیے بھارت کی بڑی فوجی پیش قدمی، پیرا ملٹری فورسز کی 12 کمپنیاں تعینات

ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر، بچوں کے اسکول بھی زد میں

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ