پیرس کے قریب تاریخی جنگل میں شدید آتشزدگی، 800 ہیکٹر رقبہ خاکستر، فرانس نے واٹر بمبار طیارے طلب کر لیے

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب واقع تاریخی فونٹین بلو  جنگل میں لگنے والی شدید آگ پر قابو پانے کے لیے 400 سے زائد فائر فائٹرز رات بھر کارروائی میں مصروف رہے، جبکہ حکام نے آگ بجھانے کے لیے 2 واٹر بمبار طیارے بھی طلب کر لیے ہیں۔

فرانسیسی حکام کے مطابق جنگل میں آگ ایک ہائی وے کے قریب شروع ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے تیز گرم ہواؤں کے باعث بڑے علاقے تک پھیل گئی۔ آدھی رات تک آگ نے 800 ہیکٹر (تقریباً 1980 ایکڑ) سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

فونٹین بلو جنگل پیرس سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ فرانس کے مشہور تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی علاقے میں واقع شاہی محل ماضی میں فرانسیسی بادشاہوں کی شکار گاہ اور خزاں کے موسم کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے یورپ میں موسمیاتی بحران شدت اختیار کر گیا، اسپین میں جنگلاتی آگ سے درجن بھر افراد ہلاک

آتشزدگی کے باعث پیرس کو فرانس کے شہر لیون اور جنوبی علاقوں سے ملانے والی اہم اے 6 ہائی وے کو بند کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ علاقے میں لگنے والی چھوٹی نوعیت کی دیگر آگ کے باعث تیز رفتار ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔

فرانسیسی فائر سروس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آگ بجھانے کی کارروائی جاری ہے۔ حکام نے مقامی آبادی کو خبردار کیا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے لیے استعمال ہونے والے کینیڈائر واٹر بمبار طیارے دریائے سین سے پانی حاصل کریں گے، جو پیرس کے وسط سے گزرتا ہے۔

یہ آتشزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی یورپ شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔ مختلف یورپی ممالک میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بار بار آنے والی ہیٹ ویوز نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور گرم ہواؤں میں اضافہ ہو رہا ہے، جو جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان کے مختلف علاقوں میں جنگلاتی آگ نے ہزاروں ہیکٹر رقبے کو متاثر کیا ہے۔

اسپین کے جنوب مشرقی صوبے المیریا میں لگنے والی ایک بڑی آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 13 ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک 93 سالہ برطانوی خاتون جھلسنے کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔

یہ بھی پڑھیے یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او نے خبردار کردیا

مغربی یورپ رواں موسم گرما میں تیسری مرتبہ طویل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ جون کے آخر میں آنے والی ہیٹ ویو کے دوران مختلف یورپی ممالک میں 10 ہزار سے زائد اضافی اموات رپورٹ کی گئیں۔ شدید گرمی کے باعث بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، اسکول بند کرنا پڑے اور فرانس، اسپین اور برطانیہ میں درجہ حرارت کے کئی ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

یورپی اموات کی نگرانی کرنے والے ادارے یورو مومو  سے وابستہ ڈنمارک کے اسٹیٹن سیریم انسٹی ٹیوٹ کے چیف فزیشن لاسے ویسٹرگارڈ نے کہا کہ سال کے اس وقت اتنی زیادہ اضافی اموات غیر معمولی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے علاوہ کسی اور وجہ سے اس غیر معمولی اضافے کی وضاحت کرنا مشکل ہے، کیونکہ بلند درجہ حرارت نے یورپ کے مختلف حصوں میں انسانی صحت پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp