برطانوی گلوکارہ دعا لیپا نے البانیہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان سے منسلک ایک متنازع ریزورٹ منصوبے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سے منصوبے کی شفافیت اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اقدامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دعا لیپا نے منگل کے روز سروس 95 بک کلب پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ حکومت نے عوامی مشاورت کے بغیر ماحولیاتی تحفظ کے قوانین میں تبدیلی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ عوام اپنے ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔
گلوکارہ کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف ایک ریزورٹ منصوبے تک محدود نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ملک کی ترقی اور تعمیرِ نو کس انداز میں کی جا رہی ہے اور کیا اس سے عام شہریوں کو حقیقی فائدہ پہنچے گا۔
منصوبے کے خلاف کئی ماہ سے احتجاج جاری
البانیہ میں اس ریزورٹ منصوبے کے خلاف مئی کے آخر سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ منصوبے سے ماحول کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کی منظوری کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھیے اجازت کے بغیر میری تصویر کیوں استعمال کی؟ اداکارہ کا سام سنگ کیخلاف 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
یہ منصوبہ 2024 میں سامنے آیا تھا، جسے ٹرمپ خاندان سے منسلک سرمایہ کاری منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ تاہم عوامی احتجاج اور شدید مخالفت کے بعد منصوبے کے حوالے سے حکومتی فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے۔
احتجاجی مظاہرین نے البانیہ کے وزیراعظم ایڈی راما سے بھی استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عوامی مفادات کے بجائے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
ماحولیاتی کارکن نے دعا لیپا کے بیان کو سراہا
البانیہ کی ماحولیاتی کارکن بیسجانا گوری نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے دعا لیپا کے بیان کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ معروف عالمی شخصیت کی جانب سے اس معاملے پر آواز اٹھانا البانیہ حکومت کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔
یہ بھی پڑھیے عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ دعا لیپا اور اداکار کالم ٹرنر نے شادی کرلی
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دعا لیپا کی حمایت سے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق یہ تحریک عالمی سطح پر مزید توجہ حاصل کرے گی۔
واضح رہے کہ دعا لیپا کا تعلق البانیہ سے بھی ہے۔ ان کے والدین کوسوو کے البانوی نژاد ہیں، جبکہ گلوکارہ نے ماضی میں بھی اپنے آبائی خطے سے متعلق سماجی اور ثقافتی معاملات پر آواز اٹھائی ہے۔













