کراچی میں جہاں ایک طرف بچے گرمیوں کی تعطیلات کھیل کود، موبائل فون اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں، وہیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) نئی نسل کی دلچسپی کا اہم مرکز بنتی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں گورنر ہاؤس کراچی میں اپنی نوعیت کے پہلے ’ارفع کریم اے آئی سمر کیمپ‘ کا آغاز کیا گیا ہے، جہاں مختلف عمر کے بچے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اس کے عملی استعمال سے متعلق بنیادی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی گورنر سندھ نہال ہاشمی سے ملاقات، حکومتی کارکردگی پر اظہار خیال
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نہال ہاشمی نے بتایا کہ اس سمر کیمپ کو پاکستان کی کم عمر مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ آئی ٹی ماہر ارفع کریم رندھاوا کی یاد میں منسوب کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بچے گرمیوں کی چھٹیاں نانی کے گھر، پارکوں یا تفریحی مقامات پر گزارتے تھے، لیکن آج کی نسل کا زیادہ وقت موبائل فون پر صرف ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں ٹیکنالوجی کا مثبت اور تعمیری استعمال سکھایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک کے طلبہ اس پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں۔ اگر بچے موبائل فون استعمال کرنا جانتے ہیں تو وہ مصنوعی ذہانت بھی سیکھ سکتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ بچے صرف ٹیکنالوجی کے صارف نہ رہیں بلکہ تخلیق کار بنیں، نئے آئیڈیاز پیدا کریں، معیاری مواد تیار کریں اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں۔
پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بھی نوجوانوں کو آئی ٹی کی جانب راغب کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرام متعارف کرا رہی ہیں، جبکہ 2030 تک آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والا یہ سمر کیمپ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
کیمپ میں سندھ کے مختلف علاقوں سے طلبا شریک ہیں۔ سینٹ لارنس گرلز اسکول کی دسویں جماعت کی طالبہ ہنیز ارشد نے بتایا کہ اب تک 2 کلاسوں میں انہیں اے آئی پرامپٹنگ، پاور یوزر اور نئے صارفین کے درمیان فرق اور مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے بارے میں تربیت دی گئی ہے۔
دارِ مدینہ اسکول کی میٹرک کی طالبہ عریفہ نے بتایا کہ اگرچہ وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاہم اے آئی کی تربیت ان کے لیے ایک نیا اور انتہائی دلچسپ تجربہ ثابت ہو رہی ہے، جس سے مستقبل میں انہیں بھی فائدہ پہنچے گا۔
مزید پڑھیں: سکھر میں ٹوپی کس نے اتاری؟ گورنر سندھ نہال ہاشمی کی وائرل ویڈیو پرنئی بحث چھڑ گئی
واضح رہے کہ گورنر ہاؤس میں اس سے قبل بھی آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف کورسز کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے، تاہم بعض مواقع پر سرٹیفکیٹس کے اجرا اور انتظامی امور پر سوالات بھی اٹھائے گئے تھے۔ اس حوالے سے نہال ہاشمی نے کہا کہ اس پروگرام کے شرکا کو سرٹیفکیٹس اور دیگر تفصیلات مرحلہ وار فراہم کی جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شامل ہے، اور اگر کم عمر بچوں کو ابتدائی مرحلے ہی سے اس میدان سے روشناس کرایا جائے تو نہ صرف ان کی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ پاکستان کے آئی ٹی شعبے کے روشن مستقبل میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔












