لیاری کے علاقے پھول پتی لین میں جماعت اسلامی کے زیر تعمیر دفتر پر ہونے والے دستی بم حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملے میں روسی ساختہ آر جی ڈی-1 دستی بم استعمال کیا گیا، جبکہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ دہشتگردی سمیت مختلف دفعات کے تحت نامعلوم ملزم کے خلاف درج کرلیا ہے۔
مزید پڑھیں: کراچی امام بارگاہ واقعہ: گاڑی کے ڈرائیور سمیت 4 افراد کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج
منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے اس حملے میں جماعت اسلامی کے 3 کارکن زخمی ہوئے تھے، جن کی شناخت غلام مصطفیٰ، عبدالباقی اور حسین کے ناموں سے ہوئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آور موٹرسائیکل پر آیا اور دفتر پر دستی بم پھینک کر فرار ہوگیا۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔
روسی ساختہ دستی بم استعمال ہونے کا انکشاف
بم ڈسپوزل یونٹ کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے دستی بم کا لیور، باڈی کے قریباً 20 چھوٹے بڑے ٹکڑے اور دیگر شواہد برآمد ہوئے ہیں، جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ حملے میں روسی ساختہ آر جی ڈی-1 دستی بم استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دھماکے سے زمین میں قریباً 3 انچ گہرا اور 8 انچ چوڑا گڑھا بھی پڑا۔ بی ڈی یو نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی کہ ماضی میں لیاری میں ہونے والے دستی بم حملوں میں بھی 60 سے 70 فیصد واقعات میں روسی ساختہ دستی بم استعمال کیے گئے تھے۔
دہشتگردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ
چاکیواڑہ پولیس نے زخمی عبدالباقی کی مدعیت میں نامعلوم ملزم کے خلاف Explosive Substances Act 1908، انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 324 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ مقدمے کی تفتیش سی آئی سی چاکیواڑہ کے سپرد کر دی گئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جماعت اسلامی میں شمولیت اور فلاحی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سے مختلف نامعلوم ذرائع سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔
ان کے بقول حملہ آور نے جان سے مارنے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کی نیت سے دستی بم پھینکا، جس کے نتیجے میں وہ اور ان کے ساتھی زخمی ہوئے۔
منعم ظفر کی مذمت، زخمی کارکنوں کی عیادت
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سول اسپتال پہنچ کر زخمی کارکنوں کی عیادت کی اور حملے کو بدترین دہشتگردی قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ گنجان آباد علاقے میں حملہ آوروں کا فرار ہو جانا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی اور سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے شہریوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، جبکہ لیاری کے عوام کی جماعت اسلامی سے بڑھتی وابستگی بعض عناصر کو برداشت نہیں ہو رہی۔
منعم ظفر نے مطالبہ کیاکہ حملے میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جماعت اسلامی کے دفاتر سمیت تمام سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے مراکز کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔
مزید پڑھیں: انسداد دہشتگردی عدالت نے سیکریٹری داخلہ سے کراچی کے تھانوں کی فہرست طلب کرلی
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ واقعے کے تمام پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔














