صبا اقبال: مقتول بھائی کا خواب پورا کرنے والی قابلِ فخر بہن

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا، باہر گلیاں بھی لوگوں سے اٹی پڑی تھیں۔ گاؤں ایک ہجوم کا منظر پیش کر رہا تھا، اور اس ہجوم کے 2 حصے تھے۔ ایک ہمیں دلاسہ دے رہا تھا اور بھائی کی موت پر تعزیت و دلجوئی کر رہا تھا، جبکہ دوسرا ہمیں دھمکیاں دے رہا تھا اور ہمارے خلاف نفرت پھیلا رہا تھا، جیسے ہم نے کوئی بہت سنگین جرم کیا ہو۔‘

’بھائی کی لاش گھر پہنچی تو ہماری سسکیاں آہوں میں بدل گئیں، دل چاہتا تھا کہ اپنی چیخوں سے آسمان ہلا دیں، لیکن چیخیں تو ہمارے بھائی کی بھی نکلی تھیں، جب اس کی ہڈیاں ایک ایک کرکے توڑی گئیں اور پھر کسی بھاری چیز سے وار کرکے اس کا سر کچل دیا گیا۔ ہمارا بھائی مر گیا۔‘

صبا اقبال آج فخر سے آسمان کی طرف دیکھتی ہیں اور اپنے بھائی مشال خان کو یاد کرتی ہیں، جنہیں صحافت میں آگے بڑھنے کا جنون تھا، مگر 13 اپریل 2017 کو انہیں قتل کر دیا گیا۔

جب مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کے الزام میں تشدد کرکے مشال خان کو قتل کر دیا اور اس کے بعد ان کی لاش کی بے حرمتی کی، تو جب وہ لاش گھر پہنچی، صبا اقبال اور ان کی بہن استوری خان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔

باہر حالات کشیدہ تھے۔ لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات شروع ہو گئے کہ مشال خان کے جنازے میں کوئی شرکت نہ کرے۔ ان اعلانات نے ان کے خاندان کے خلاف جنم لینے والی نفرت اور انتہا پسندی کی فضا کو مزید شدت دے دی۔

یہاں تک کہ ان کے اپنے پڑوسی بھی ان کے خلاف ہو گئے، پھر دلاسہ دینے والے آگے بڑھے اور تعزیت و دلجوئی کی، چند سماجی کارکنوں نے جنازے اور تدفین کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

لیکن آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مدد کرنے والے، تعزیت کرنے والے اور دلجوئی کرنے والے بھی آہستہ آہستہ کم ہوتے گئے۔

صبا اقبال کہتی ہیں کہ اپنا محلہ اور اپنی گلیاں اجنبی بن گئی تھیں، یہاں تک کہ محلے سے گزرنا ایک مشکل مرحلہ بن گیا تھا۔

’۔۔۔کیونکہ اپنے مرحوم بھائی پر لگائے گئے توہینِ مذہب کے الزامات کے باعث انہیں لوگوں کے منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ اس وقت گھر سے باہر نکلتے ہوئے بے چینی اور عدم تحفظ محسوس ہوتا تھا۔

صبا اور ان کے اہلِ خانہ کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ سامنے سے آنے والا شخص یا گاؤں کا کوئی فرد ان کے بارے میں کیا سوچ رہا ہے۔

’اس وقت ہمدردی اور حمایت میں کمی آتی جا رہی تھی، جبکہ تنقید میں اضافہ ہو رہا تھا۔‘

مشال خان کے قتل کے بعد 40  دن سے زائد عرصے تک صبا اقبال اور ان کی بہن استوری خان گھر سے باہر نہیں نکلیں۔

خوف و ہراس اور خاندان کے خلاف پھیلائی جانے والی افواہوں کے باعث انہوں نے اسکول جانا بھی چھوڑ دیا، جو ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔

صبا اقبال کے مطابق اس دوران انہیں بالواسطہ دھمکیاں بھی موصول ہوتی رہیں، جبکہ بعض نامعلوم عناصر ان کے خاندان کے خلاف افواہیں پھیلاتے رہے۔

’بھائی کی لاش کی حالت دیکھ کر ہم شدید خوف زدہ ہو گئے تھے۔ ان کے ساتھ جو ہوا، وہ دوبارہ بھی ہو سکتا تھا۔ ایسے حالات میں ہم اسکول جا کر کلاسوں میں کیسے بیٹھ سکتے تھے۔‘

دوسری طرف شرپسند عناصر یہ افواہیں پھیلا رہے تھے کہ مشال خان کا خاندان مغربی ممالک میں پناہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔

ان افواہوں کی وجہ سے خاندان پر حملے کا خوف ہر وقت موجود رہتا تھا، ایک سال اسی خوف اور سراسمیگی میں گزر گیا۔

صبا کہتی ہیں: پھر وقت گزرنے کے ساتھ کچھ مرہم پڑا اور ذرا سی ہمت پیدا ہوئی۔ میں نے ایک نئے اسکول سے اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا۔

مشکلات اب بھی موجود تھیں، لیکن انہوں نے اپنی پڑھائی اور سخت محنت میں پناہ ڈھونڈ لی۔

پھر ایک روز صبا کو اپنے بھائی کا خواب یاد آیا؛ صحافی بننے کا خواب۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود صحافی بن کر اپنے مقتول بھائی کے خواب کی تعبیر بنیں گی۔

اسی دن سے ان کے اندر ایک نئی لگن پیدا ہو گئی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور صحافی بننے کی لگن۔

پاکستان میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد صبا نے کینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں داخلے کے لیے درخواست دی، جہاں انہیں اسکالرشپ مل گئی، جو ان کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔

تاہم مشکلات کا سلسلہ وہاں بھی ختم نہیں ہوا۔ ’کینیڈا پہنچنے کے بعد بھی زندگی آسان نہیں تھی۔ پردیس میں اکیلے رہنا اور پورا ہفتہ روزانہ 16 گھنٹے کام کرنا آسان نہیں تھا، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔‘

اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب تمام تر مشکلات اور جدوجہد کے بعد انہوں نے بالآخر کینیڈا سے صحافت میں ڈگری حاصل کرکے اپنے مرحوم بھائی مشال خان کا خواب پورا کر دیا۔

اب صبا اقبال کو لگتا ہے کہ ان کے بھائی مشال خان کا ان پر فخر پہلے سے بھی زیادہ ہوگا۔

’مشال خان صحافت کے طالب علم تھے اور صحافی بننا چاہتے تھے۔ صحافت میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد مجھے لگا کہ مشال کا خواب پورا ہو گیا ہے۔‘

صبا اقبال کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی یہ ڈگری اور کامیابی مشال خان کے نام کی ہے، صحافت مشال کا خواب تھا اور آج انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کا خواب پورا کر دیا ہے۔

لیکن انہیں وہ اذیت آج بھی یاد ہے، جب ان کے بھائی کی لاش گھر پہنچی تھی۔ اگرچہ بعد ازاں حکومتی جے آئی ٹی نے توہینِ مذہب کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مشال خان کو بے گناہ قرار دیا، جبکہ عدالت نے مرکزی ملزم کو سزائے موت سنائی۔

غم اپنی جگہ، لیکن صبا اقبال کو یہ جب خیال آتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے ایک قابلِ فخر بہن ثابت ہوئی ہیں، وہ بہن جس نے ان کا ادھورا خواب پورا کر دیا، تو ان کی رگ و پے میں سرشاری کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب حکومت کی پاسکو سے گندم خریداری پر اپوزیشن کا اعتراض، تحریکِ التوا جمع

آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کے کامیاب انعقاد اور مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری، وزیراعظم کی مبارکباد

پاکستان آئیڈل کی واپسی؟ زیب بنگش نے مداحوں کو خوشخبری سنا دی

مومنہ اقبال کیس میں پیشرفت، تفتیش مکمل، ثاقب چدھڑ کے خلاف رپورٹ عدالت میں پیش

آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، رانا ثناء اللہ

ویڈیو

جب تک ن لیگ کی حکومت قائم ہے پیپلزپارٹی اتحاد کا حصہ رہے گی، حسن مرتضیٰ

آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ 13 میں سے 9 نشستیں جیت کر سب سے آگے، چیف الیکشن کمشنر نے پہلا مرحلہ شفاف قرار دے دیا

سائیکل ایمبولینس: ہنگامی ضرورت یا ترقی کی رفتار پر سوال؟

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی