امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ نے پیش گوئی کی ہے کہ 2045 تک دنیا بھر میں تجارتی طیاروں کا بیڑا بڑھ کر قریباً 50 ہزار طیاروں تک پہنچ جائے گا، جن میں 90 فیصد سے زیادہ جدید، کم ایندھن خرچ کرنے والے نئے طیارے شامل ہوں گے۔
بوئنگ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں قریباً 28 ہزار تجارتی طیارے زیر استعمال ہیں، جبکہ آئندہ 2 دہائیوں میں بڑھتی ہوئی عالمی معیشت، فضائی سفر کی طلب اور نئے فضائی راستوں کے باعث قریباً 44 ہزار نئے طیارے تیار کرنا ہوں گے تاکہ بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں اور پرانے طیاروں کی جگہ نئے جہاز شامل کیے جا سکیں۔
کمپنی کے مطابق 2045 تک عالمی فضائی بیڑے کا 92 فیصد حصہ نئی نسل کے طیاروں پر مشتمل ہوگا، جو موجودہ طیاروں کے مقابلے میں قریباً 20 فیصد کم ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت عالمی بیڑے میں نئی نسل کے طیاروں کا تناسب قریباً 32 فیصد ہے۔
Quick update from Chengdu Shuangliu: Original Air China B-2445 (Boeing 747-4J6) was towed today to the fuel dumping area, prepping for full dismantling after nearly 2 years in storage.
Facts.. Delivered Feb 1994, retired Sept 6 2024 after 30.6 years as one of China’s… pic.twitter.com/7b7EU3htAi
— Fahad Naim (@Fahadnaimb) July 17, 2026
بوئنگ کے نائب صدر برائے کمرشل مارکیٹنگ ڈیرن ہلسٹ نے کہا کہ 2026 کے آغاز میں فضائی صنعت سے جس رفتار کی توقع کی جا رہی تھی، وہ حاصل نہیں ہو سکی، تاہم فضائی سفر کی بنیادی طلب اب بھی مضبوط ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب کمپنی کو توقع ہے کہ 2026 میں فضائی سفر کی طلب سال کے آغاز میں کیے گئے اندازوں کے مقابلے میں قریباً نصف یا اس سے بھی کم رہے گی۔
ڈیرن ہلسٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود ایئرلائنز نے حیرت انگیز تیزی سے اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کیے اور مسافروں کو یورپ، ایشیا اور بعض صورتوں میں شمالی امریکا کے فضائی مراکز کے ذریعے اپنی منزلوں تک پہنچایا۔
مزید پڑھیں:امریکا، ایران مذاکرات کا اگلا دور آج دوحہ میں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اولین ہدف
بوئنگ کی پیش گوئی کے مطابق 2026 سے 2045 کے دوران عالمی فضائی مسافروں کی آمدورفت میں اوسطاً 4 فیصد سالانہ جبکہ عالمی معیشت میں 2.5 فیصد سالانہ اضافہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 وبا کے بعد سپلائی چین کے مسائل کے باعث نئے طیاروں کی پیداوار اب بھی طلب سے پیچھے ہے، اور کمپنی کے مطابق سنگل آئل (Single-aisle) طیاروں کی قلت موجودہ دہائی کے اختتام تک جبکہ بڑے وائیڈ باڈی (Widebody) طیاروں کی کمی 2030 کی ابتدائی برسوں تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔














