پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ شدید سفارتی اور عسکری کشیدگی کے تناظر میں، پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں 24 اگست تک مزید توسیع کر دی ہے۔
پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی (پی اے اے) کی جانب سے جاری کردہ نئے ’نوٹام‘ (نوٹس ٹو ایئرمین) کے تحت بھارتی ملکیت، لیز، رجسٹریشن یا بھارت سے آپریٹ ہونے والے تمام سویلین اور فوجی طیاروں کے پاکستانی حدود استعمال کرنے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
معاہدے ٹوٹے، سرحدیں بند، 2025 کا وہ موڑ جس نے سب بدل دیا
یاد رہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان یہ تعطل اپریل 2025 میں اس وقت شروع ہوا جب مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:خراب موسم کے باعث 3 پاکستانی پروازیں مختصر وقت کے لیے بھارتی فضائی حدود میں داخل
نئی دہلی نے روایتی طور پر بغیر کسی ثبوت کے فوری طور پر اس کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا، جسے اسلام آباد نے یکسر مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی۔
تاہم، بھارت نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے 23 اپریل 2025 کو 65 سالہ قدیم ’انڈس واٹرز ٹریٹی‘ (معاہدہ طاس) کو معطل کر دیا، پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے اور واہگہ اٹاری بارڈر بند کر دیا۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بند کر کے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتی عملے میں بھی شدید کٹوتی کر دی۔
فضائی جھڑپیں اور ’آپریشن بنیان مرصوص‘ پاکستان کا منہ توڑ جواب
مئی 2025 میں یہ کشیدگی اس وقت خطرناک جنگی صورتحال میں تبدیل ہو گئی جب بھارت نے پاکستان کے صوبہ پنجاب اور آزاد کشمیر کے 6 شہروں پر میزائل حملے کیے، جس میں ایک مسجد شہید اور بچوں و خواتین سمیت درجنوں شہری جاں بحق ہوئے۔
مزید بھی پڑھیں:پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پر عائد پابندی میں مزید توسیع کردی
اس ننگی جارحیت کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے بھرپور ردعمل دیتے ہوئے بھارت کے 3 جدید ’رافیل‘ طیاروں سمیت متعدد جنگی طیارے مار گرائے۔
بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی ایئر بیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا۔
جس کے تحت بھارتی فوجی تنصیبات، میزائل اسٹوریج سائٹس اور اسٹریٹجک فضائی اڈوں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
عالمی مداخلت اور سیز فائر
شدید عسکری تصادم کے بعد عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہوئیں اور 10 مئی 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا۔
جس کی تصدیق بعد میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بھارتی سیکریٹری خارجہ نے بھی کی۔
اگرچہ سیز فائر کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر فضائی حدود کی بندش میں مسلسل توسیع ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ایٹمی ممالک کے مابین تعلقات تاحال انتہائی سرد مہر ہیں۔














