افغانستان کے صوبوں دایکندی اور غزنی میں 2 الگ الگ واقعات میں سابق افغان انٹیلیجنس افسر اور ایک قبائلی بزرگ کو قتل کر دیا گیا، جبکہ دونوں واقعات کے محرکات تاحال سامنے نہیں آ سکے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایا کہ دایکندی کے ضلع شہرستان میں سابق سیکیورٹی اہلکار اور انٹیلیجنس افسر محمد علی طوفان کو جمعرات کی شام نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی اور سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد وہ طالبان کی عام معافی کے اعلان پر اعتماد کرتے ہوئے افغانستان ہی میں مقیم رہے۔
Local sources told Afghanistan International that a former intelligence officer was killed in Daikundi and a tribal elder was murdered in Ghazni’s Qarabagh district in separate incidents.https://t.co/lnZ9ZO0l8b pic.twitter.com/84JAGhqTSa
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 18, 2026
ذرائع کے مطابق طالبان انٹیلیجنس نے تقریباً 2 سال قبل انہیں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) سے مبینہ تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔ وہ کابل کی پل چرخی اور پروان کی بگرام جیل میں قید رہے اور تقریباً 5 ماہ قبل رہائی کے بعد دوبارہ زراعت سے وابستہ ہو گئے تھے۔ مقتول اپنے پیچھے 6 بچوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔
دوسری جانب صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ میں قبائلی بزرگ قادر علی رفعت کی لاش 24 گھنٹے بعد برآمد ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وہ 16 جولائی کی صبح موٹر سائیکل پر علی آباد تمکی بازار کے لیے گھر سے نکلے تھے، تاہم واپس نہ آئے۔ مقامی افراد نے تلاش کے بعد ان کی لاش برآمد کی، جس پر تشدد اور زخموں کے واضح نشانات موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود، طالبان سے روابط برقرار، اقوام متحدہ کا انکشاف
دونوں واقعات کے ذمہ داروں اور محرکات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، جبکہ طالبان حکام نے بھی ان ہلاکتوں پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔














