سعودی عرب کے تاریخی شہر جدہ میں قائم ریڈ سی میوزیم میں جاری ’غرق شدہ خزانے: بحیرۂ احمر کا بحری ورثہ‘ کے عنوان سے نمائش میں بحیرۂ احمر کی سمندری تجارت، جہاز رانی اور آبی آثارِ قدیمہ کی دو صدیوں پر محیط تاریخ کو منفرد انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ نمائش کا مرکزی حصہ اُملج کے تاریخی بحری جہاز کی کہانی پر مشتمل ہے، جو ایک تجارتی جہاز سے آثارِ قدیمہ کے اہم مقام میں تبدیل ہو گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق تقریباً 40 میٹر طویل یہ تجارتی جہاز اُملج کے ساحل کے قریب مرجانی چٹانوں سے ٹکرا کر 22 میٹر گہرے پانی میں ڈوب گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مقام بحیرۂ احمر کی سمندری تاریخ کا اہم آثارِ قدیمہ کا مرکز بن گیا، جہاں دو صدیوں سے زیادہ عرصے کی یادگاریں محفوظ ہیں۔
'Submerged Treasures' Exhibition Tells Story of Umluj Shipwreck from Merchant Vessel to Archaeological Sitehttps://t.co/7QQWtktQnN#SPAGOV pic.twitter.com/dAUyNkQt8I
— SPAENG (@Spa_Eng) July 18, 2026
اس مقام کی دریافت 2007 میں ہوئی، جبکہ 2015 میں باقاعدہ آثارِ قدیمہ کی کھدائی کا آغاز کیا گیا۔ ماہرین کو کھدائی کے دوران مٹی کے برتن، اٹھارویں اور انیسویں صدی کے نیلے اور سفید چینی ظروف اور جہاز کے تجارتی سامان سے متعلق متعدد نوادرات ملے، جو اُس دور کی سمندری تجارت کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش میں بتایا گیا ہے کہ وقت کے ساتھ سمندری تلچھٹ اور مرجانی چٹانوں نے جہاز کے ملبے کو ڈھانپ لیا، جس سے یہ مقام نہ صرف آثارِ قدیمہ بلکہ قدرتی تنوع کا بھی اہم حصہ بن گیا۔ نمائش کے اختتام پر ایک انٹرایکٹو سیکشن کے ذریعے زیرِ آب آثارِ قدیمہ کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:الباحہ میں ’کنٹینر واک وے‘ عوامی توجہ کا مرکز، گرمیوں میں صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کی نئی کوشش
منتظمین کے مطابق یہ نمائش سعودی عرب کے بحری ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے، بحیرۂ احمر کی تاریخی تجارتی اہمیت کو نمایاں کرنے اور مستقبل کی نسلوں کے لیے زیرِ آب تاریخی مقامات کے تحفظ سے متعلق شعور بیدار کرنے کی کوشش ہے۔














