پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے مرحوم ہدایتکار اقبال کشمیری کو یاد کرتے ہوئے جذباتی لمحات کا سامنا کیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔
عتیقہ اوڈھو نے 1990 کی دہائی کے آغاز میں اپنے شاندار کرداروں کے ذریعے ٹیلی ویژن ناظرین میں مقبولیت حاصل کی۔ ان کے یادگار ڈراموں میں ستارہ اور مہرالنسا، دشت اور نجات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے داؤ، ہمسفر، بے شرم، کیسی تیری خودغرضی، پیار کے صدقے اور پردیس سمیت کئی کامیاب ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
مزید پڑھیں:ہمایوں سعید نے سینیئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو بڑی بہن قرار دے دیا
حال ہی میں عتیقہ اوڈھو پی ٹی وی کے پروگرام اسٹار اینڈ اسٹائل میں میزبان عاصم یار کے ساتھ شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے اپنے مرحوم ہدایتکار اقبال کشمیری کے ساتھ کام کرنے کے تجربات شیئر کیے۔
پروگرام کے دوران جب ان کی ایک پرانی فلم کا کلپ دکھایا گیا، جس کی ہدایتکاری اقبال کشمیری نے کی تھی، تو عتیقہ اوڈھو جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رو پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ ان گانوں نے انہیں اقبال کشمیری کی یاد دلا دی، جن کے ساتھ انہوں نے فلمیں جو ڈر گیا وہ مر گیا اور ممی میں کام کیا تھا۔ عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ اگرچہ فلم ممی زیادہ کامیاب نہیں ہوسکی، لیکن اس کی شوٹنگ سے ان کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ وہ اقبال کشمیری کے سامنے اکثر مذاق کیا کرتی تھیں کیونکہ انہیں رقص کرنا نہیں آتا تھا، جبکہ اقبال صاحب خود رقص کرکے انہیں سکھاتے تھے۔ ان کے مطابق اقبال کشمیری کو اداکاری اور فن سے بے حد محبت تھی اور وہ اپنے کام کے لیے بہت پرجوش رہتے تھے۔
مزید پڑھیں: حالیہ تنازعہ کے بعد عتیقہ اوڈھو کا فہد مصطفیٰ کےبارے میں حیران کن موقف
عتیقہ اوڈھو نے کہا کہ اقبال کشمیری کے انتقال کا سوچ کر آج بھی انہیں دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فنکار اپنے کام سے محبت کرتے تھے، جبکہ موجودہ دور میں انڈسٹری زیادہ تر مالی معاملات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔














