پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کے حالیہ الزامات اس کی ساکھ اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔
پاکستان کے مؤقف کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بارہا طالبان کے بیانیے اور اقوام متحدہ کے افغانستان امدادی مشن (یوناما) کی جانب سے جاری کیے گئے جانی نقصانات کے اعداد و شمار کو نمایاں کیا، تاہم افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور داعش خراسان (آئی ایس کے پی) جیسے دہشتگرد گروہوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کا ذکر نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق رویہ ایک بار پھر سوالات کی زد میں، مائیکل کوگلمین بول پڑے
پاکستان نے یہ بھی کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ بڑی حد تک یوناما کی معلومات پر مبنی ہے، حالانکہ طویل عرصے سے اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ یوناما کو افغانستان میں طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں، مقامی ذرائع اور ایسے معلوماتی ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے جن کی انتہائی محدود عملی ماحول میں آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق وسیع تر سیکیورٹی تناظر کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف جانی نقصانات کے دعوؤں پر توجہ مرکوز کرنا نہ صرف طالبان کے بیانیے کو تقویت دینے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس سے یہ حقیقت بھی نظر انداز ہوتی ہے کہ طالبان شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے القاعدہ اب بھی افغانستان میں موجود، طالبان سے روابط برقرار، اقوام متحدہ کا انکشاف
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کے تحت سرحد پار مسلسل دہشتگردی کے خلاف اپنے دفاع کا تسلیم شدہ حق حاصل ہے، اور اسی تناظر میں وہ مصدقہ دہشتگرد ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کی یکطرفہ رپورٹس دہشتگردی کے خلاف جاری کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور خطے میں سیکیورٹی کی حقیقی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔













