معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا انتباہ

جمعرات 23 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے، تاہم وہ ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نظر نہیں آتا، اور اگر اس نے معاہدہ نہ کیا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایران ابھی معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن اسے اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل، تہران کا ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی پر عمل کا اعلان

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران ماضی میں ہونے والے معاہدوں کی پاسداری نہیں کرتا رہا۔ ’جب بھی ایران کوئی معاہدہ کرتا ہے تو یا تو اسے توڑ دیتا ہے یا پھر اس کی شرائط تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو عسکری اور اقتصادی سطح پر بھاری نقصانات کا سامنا ہے اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو یہ نقصان مزید بڑھ جائے گا۔

ان کے مطابق، ایران کی دفاعی صنعتی صلاحیت بری طرح متاثر ہو چکی ہے، اس کے ریڈار نظام اور لانچر مسلسل تباہ ہو رہے ہیں، جبکہ اسے اربوں ڈالر کے مالی نقصانات بھی برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے اور موجودہ صورتحال میں وہ مسلسل بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ حوثی کشیدگی میں کمی لائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو ایران نے گمراہ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی طرف سے حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکر پر حملے کی شدید مذمت، ریاض کی مکمل حمایت کا اعادہ

ایرانی حکام کی جانب سے ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی پالیسی کے حوالے سے سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ’آنکھ کے بدلے سر‘ کا ہے۔

انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران اپنی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے بھاری قیمت ادا کر رہا ہے، اس کا صنعتی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے اور ملک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp