لاہور قلعہ، بادشاہی مسجد اور گوردوارہ ڈیرہ صاحب کے درمیان واقع مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی برصغیر کی تاریخ، فنِ تعمیر اور ثقافتی ورثے کی اہم یادگار سمجھی جاتی ہے، جو سکھ سلطنت کے بانی اور شیرِ پنجاب کی یاد تازہ کرتی ہے۔
مزید پڑھیں:حوادث زمانہ کا عینی شاہد صدیوں پرانا شیرگڑھ قلعہ
1839 میں مہاراجا رنجیت سنگھ کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات اسی مقام پر ادا کی گئیں۔ گوردوارہ ڈیرہ صاحب کے ہیڈ گرنتھی گیانی رنجیت سنگھ کے مطابق یہ عمارت ابتدا میں ایک بارہ دری تھی، جہاں مہاراجہ اپنے درباری اجلاس منعقد کرتے تھے، بعد ازاں اسے یادگاری سمادھی کی شکل دے دی گئی۔
سمادھی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی راکھ سے متعلق یادگاری مرتبان محفوظ ہیں، جبکہ روایت کے مطابق ان کی بیشتر راکھ دریائے گنگا میں بہا دی گئی تھی۔
یہ یادگار اپنے منفرد طرزِ تعمیر کے باعث بھی نمایاں ہے، جہاں سکھ، مغل اور ہندو فنِ تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ سرخ پتھر پر کندہ نقوش، سنہری گنبد، رنگین شیشوں کی آرائش، پھولوں کی نقاشی اور لکڑی کی نفیس چھتیں انیسویں صدی کے پنجاب کی اعلیٰ کاریگری کی عکاسی کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں:ہاتھ سے ٹوپیاں بنانے کا دم توڑتا فن سنبھالنے والا چارباغ کا خاندان
قریباً 2 صدیوں بعد بھی یہ سمادھی دنیا بھر سے آنے والے زائرین، مؤرخین اور محققین کی توجہ کا مرکز ہے اور لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے، جہاں مختلف تہذیبوں اور ادوار کی تاریخ ایک ہی مقام پر سمٹ آئی ہے۔














