وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے والی کمیٹی کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں شعبے کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن کے لیے واضح اہداف پر مبنی جامع روڈ میپ تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزارت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں شفافیت، ڈیجیٹلائزیشن اور ونڈ فال ٹیکس سمیت متعدد اہم امور زیر غور آئے۔
اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات
اجلاس میں مرکزی کمیٹی کی ذیلی کمیٹیوں نے پیٹرولیم پرائسنگ میکانزم کے مختلف پہلوؤں پر اپنی سفارشات اور نتائج پیش کیے۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت نے 4 سالوں میں بجلی کے بل اور 2 سالوں میں پیٹرولیم لیوی سے کتنے ارب روپے کمائے؟ حیران کن اعداد و شمار
اس موقع پر عالمی مشاورتی ادارے کے پی ایم جی نے خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے نظام کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا۔
کمیٹی کے اراکین نے یومیہ قیمتوں کے تعین کے فارمولے اور نئے پرائسنگ میکانزم میں شفافیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں غیر ضروری اتار چڑھاؤ کم کرنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
وفاقی وزیر کا مؤقف
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم شعبے کی ڈی ریگولیشن واضح، قابلِ پیمائش اور مرحلہ وار روڈ میپ کے تحت کی جانی چاہیے، جس میں پیش رفت جانچنے کے لیے واضح اہداف اور سنگِ میل مقرر کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کو پیٹرولیم سپلائی چین کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا پابند بنایا جانا چاہیے تاکہ شفافیت، ٹریس ایبلٹی، کارکردگی اور احتساب کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اوگرا ڈیش بورڈ فعال، عوام کو براہ راست رسائی
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ویب سائٹ پر ڈیش بورڈ فعال کر دیا گیا ہے، جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمتیں، قیمتوں کے تعین کا فارمولہ اور متعلقہ پلاٹس ڈیٹا دستیاب ہے۔ اس اقدام سے شعبے میں شفافیت بڑھے گی اور عوام کی معلومات تک رسائی میں بھی اضافہ ہوگا۔
اسٹریٹجک ذخائر اور پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ زیر غور
اجلاس میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور مجوزہ پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ممکنہ اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ یہ اقدامات مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم کرنے اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی و قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے میں کس حد تک معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
مورٹوریم اور آئی ایف ای ایم پول پر بھی غور
اجلاس میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے قیام پر عائد پابندی (مورٹوریم) اور اس کے مسابقت، سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے ڈھانچے پر مرتب ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر شرکاء نے اتفاق کیا کہ آئی ایف ای ایم پول کا بھی جامع جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ونڈ فال ٹیکس پر بھی تفصیلی بحث
اجلاس میں ونڈ فال ٹیکس کے معاملے پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ وزارتِ خزانہ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پیٹرولیم ڈویژن سے مشاورت کے بعد آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی جائے گی۔
آئندہ کا لائحہ عمل
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ذیلی کمیٹیوں کی سفارشات پر غور کا عمل جاری رکھا جائے گا اور پیٹرولیم شعبے میں شفافیت، مسابقت، کارکردگی اور صارفین کے تحفظ کو فروغ دینے کے لیے اصلاحات پر مشتمل ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوئیں تو ریلیف عوام کو منتقل کریں گے، وزیر پیٹرولیم
واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کی ہدایت پر ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد پیٹرولیم شعبے میں شفافیت، مسابقت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
یہ کمیٹی وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی سربراہی میں کام کر رہی ہے اور اب تک اس کے پانچ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر این سی ایم سی لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی۔














