پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ہم پرامن رہنا چاہتے ہیں ورنہ میں بھی صدر زرداری کا بیٹا، شاہنواز اور مرتضٰی بھٹو کا بھانجا ہوں مجھے مجبور نہ کرو، میں اپنی والدہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سیاست کرنا چاہتا ہوں، اس بیان پر سیاسی اور تجزیاتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
وی نیوز نے بلاول بھٹو کے بیان کے پس منظر، مقصد اور اس کے ممکنہ سیاسی اثرات جاننے کے لیے مختلف تجزیہ کاروں اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں سے گفتگو کی، جنہوں نے اس بیان کو مختلف انداز میں دیکھا۔
مسلم لیگ (ن) کا ردعمل اور تنقید
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے، ن لیگی رہنما میاں جاوید لطیف نے بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول نے تو یہ بتا دیا کہ وہ کس کے بیٹے اور کس کے بھانجے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:الیکشن پر ڈاکا ڈالا تو سمجھ لو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، بلاول بھٹو زرداری
لیکن یہ بھی سب جانتے ہیں کہ وہ ذوالفقار بھٹو کے نواسے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس مقام پر اور کس کے سامنے یہ بات کر رہے ہیں؟،کیونکہ ایسے موقع پر لوگوں کے ذہن میں ماضی بھی تازہ ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ رجحان بن گیا ہے کہ جو بھی اس نوعیت کی گفتگو کرے، وہ سوشل میڈیا پر مقبول ہو جاتا ہے اور بعض غیر ملکی قوتیں بھی ایسے بیانیوں کو ہوا دیتی ہیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہت بڑی شخصیت بن گیا ہے۔
جاوید لطیف نے کہا کہ اگر بلاول خود کو قومی جماعت کا قومی رہنما سمجھتے ہیں تو انہیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی کے معاملات کو دوبارہ چھیڑنے سے مستقبل کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست صرف دفاعی اداروں کا نام نہیں بلکہ اس میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور دیگر قومی ادارے بھی شامل ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں اسی مجموعے کو اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بلاول بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ سے کوئی گلہ یا شکایت ہے تو انہیں بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، کیونکہ اس قسم کے بیانات سے ملک دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں ووٹ پر کھلم کھلا ڈاکا ڈالا گیا، دھاندلی کے ثبوتوں کا جواب دیا جائے: بلاول بھٹو زرداری
جاوید لطیف نے مزید کہا کہ انہیں زیادہ خوشی ہوتی اگر بلاول یہ کہتے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی وزرا کی جانب سے بلاول کے بیان پر جو سخت ردعمل سامنے آیا، وہ بھی مناسب نہیں اور ایسے بیانات کا جواب دینے سے گریز کرنا چاہیے۔
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا تجزیہ
سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ بلاول بھٹو کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ صرف مفاہمت تک محدود رہنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ ضرورت پڑنے پر جارحانہ سیاسی راستہ اختیار کرنے کا اشارہ بھی دے رہے ہیں؎
بلاول نے جب کہا کہ وہ آصف علی زرداری کے بیٹے ہونے کے ساتھ ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے بھانجے بھی ہیں تو اس میں ایک طرح کی تنبیہ، دھمکی یا سیاسی فرسٹریشن کا عنصر بھی محسوس ہوتا ہے۔
مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ بلاول نے ابتدا میں ریاست کو مخاطب کیا، بعد میں وضاحت دی کہ ان کی مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نہیں تو پھر ریاست سے مراد کون تھی۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو
انہوں نے کہا کہ بلاول کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست کے نتیجے میں آج دوسری مرتبہ صدرِ پاکستان بنے ہیں، جبکہ مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی سیاسی جدوجہد کا انجام مختلف رہا۔
مجیب الرحمان شامی کے مطابق بلاول نوجوان رہنما ہیں، ان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے، اس لیے انہیں جذبات میں آکر توازن نہیں کھونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ آزاد کشمیر میں بھی اس کی حکومت قائم ہو، جیسا کہ گلگت بلتستان میں ہوا تھا اور یہی ن لیگ سے اس کی سیاسی کشمکش کی بنیادی وجہ ہے۔
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کی رائے
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید نے کہا کہ بلاول بھٹو کے بیان میں بظاہر ایک واضح تضاد نظر آتا ہے، ایک طرف بلاول خود کو آصف علی زرداری کا بیٹا قرار دیتے ہوئے مفاہمت کی سیاست کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ میر مرتضیٰ بھٹو کے بھانجے ہونے کا حوالہ دے کر مزاحمتی سیاست کا اشارہ دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلاول دراصل یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت بے نظیر بھٹو کی طرح مفاہمت کی سیاست پر قائم ہیں، تاہم اگر انہیں چیلنج کیا گیا یا حالات نے مجبور کیا تو وہ سخت مزاحمت کا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کشمور ہو یا کشمیر، عوام کے حقِ پر کوئی سیاسی ڈاکا قبول نہیں، بلاول بھٹو کا نواز شریف کے بیان پر ردعمل
احمد ولید کے مطابق بلاول یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے والد آصف زرداری نے جیلیں کاٹیں، جبکہ ان کے ماموں میر مرتضیٰ بھٹو نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، اس لیے اگر ضرورت پڑی تو وہ بھی مشکل حالات کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
سینیئر تجزیہ کار زیغم خان کا موقف
سینیئر تجزیہ کار زیغم خان نے کہا کہ ہر سیاستدان اپنی سیاسی شناخت اور ساکھ کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے پس منظر، جدوجہد یا خاندانی ورثے کا حوالہ دیتا ہے، بلاول بھٹو نے بھی اپنے والد، نانا اور ماموں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی سیاسی وراثت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ اپنی جماعت اور اپنی قیادت کو دوبارہ مضبوط انداز میں پیش کر سکیں۔
زیغم خان کے مطابق بلاول کا بنیادی مقصد کسی مخصوص ادارے یا شخصیت کو پیغام دینا نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ متحرک کرنا اور اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی مفاہمتی سیاست کے باعث پیپلز پارٹی سیاسی میدان میں نسبتاً غیر فعال دکھائی دیتی تھی، جبکہ بلاول پارٹی کو دوبارہ عوامی سیاست میں لانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بلاول بھٹو کا خواجہ آصف سے متعلق طرز گفتگو درست نہیں، سیاسی ماحول کشیدہ ہو سکتا ہے، رانا ثنااللہ
ان کا کہنا تھا کہ بلاول کی خواہش ہے کہ پیپلز پارٹی دوبارہ جارحانہ سیاسی انداز اپنائے، تاہم ماضی میں آصف علی زرداری انہیں محاذ آرائی کی اجازت نہیں دیتے تھے آہب دیکھنا یہ ہے کہ یہ طرزِ سیاست کب تک برقرار رہتا ہے اور پارٹی مستقبل میں کس سمت جاتی ہے۔
سیاسی مستقبل
بلاول بھٹو کے حالیہ بیان نے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن دونوں میں نئی بحث چھڑ دی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اسے غیر ضروری اور ماضی کو زندہ کرنے کی کوشش قرار دیا، جبکہ تجزیہ کاروں کی اکثریت کے مطابق اس بیان کا مقصد پیپلز پارٹی کی سیاسی شناخت کو ازسرِ نو نمایاں کرنا، کارکنوں کو متحرک کرنا اور مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کا اشارہ دینا ہے۔
تاہم یہ کہ یہ بیانیہ عملی سیاست میں کس حد تک مؤثر ثابت ہوتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے سیاسی حالات کریں گے۔









