سی پیک فیز 2، پاکستان اور چین میں صنعتی و کاروباری تعاون بڑھانے پر اتفاق

منگل 11 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سی پیک 2 کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی و کاروباری تعاون کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اعلیٰ سطح کے چینی وفد نے سی پیک سیکریٹریٹ کا دورہ کیا جہاں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال سے ملاقات اور تفصیلی مشاورت کی گئی۔

وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سی پیک سیکریٹریٹ میں ہونے والی ملاقات میں چینی وفد کی قیادت اقتصادی امور پریس کے سینئر مشیر سن ڈونگ شینگ نے کی۔ فریقین نے پاکستان کی برآمدی صلاحیت بڑھانے، صنعتی و زرعی شعبوں کو جدید بنانے، کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری وسعت دینے اور ٹیکنالوجی و جدت کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک فیز 2 میں کون سے 5 نئے کوریڈور شامل ہیں؟ احسن اقبال نے بتا دیا

وفاقی وزیر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی تبدیلی کے ایجنڈے ’اڑان پاکستان‘ سے آگاہ کیا۔ انہوں نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے لیے جدت، خودکاری اور روبوٹکس کے شعبوں میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی غرض سے نیشنل سینٹر آف نیو مینوفیکچرنگ کے چینی ہم منصب اداروں کے ساتھ فعال تعاون کی تجویز پیش کی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے، جس کے باعث معیشت کی ترقی کے کئی مراحل پائیدار رفتار حاصل کرنے سے پہلے ہی رک جاتے ہیں۔ حکومت کی اولین ترجیح پیداواری شعبوں کو برآمدات کے مؤثر انجن میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کے تحت چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دی، اب امید ہے کہ سی پیک 2.0 پاکستان کو برآمدات کے خسارے پر قابو پانے میں معاون ثابت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:سی پیک فیز ٹو کی رفتار میں اضافہ، اقتصادی زونز کے ذریعے 2030 تک 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری ہدف

وفاقی وزیر نے پاکستان سے چین کو برآمدات بڑھانے کے لیے سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین سالانہ تقریباً 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے، تاہم اس میں پاکستان کا برآمدی حصہ انتہائی کم اور تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک 2.0 کا محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے۔ حال ہی میں پاکستان اور چین کے کاروباری اداروں کے درمیان صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی سطح پر معاہدے ہوئے ہیں۔ وسیع تر کاروباری شراکت داری کے ذریعے سی پیک 2.0 پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

چینی وفد کے سربراہ سن ڈونگ شینگ نے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاک چین دوستی کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے صنعت اور زراعت کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی اداروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور کاروباری اداروں کے درمیان روابط و باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین بی ٹو بی کانفرنس میں 13 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے؛ معاشی سفارت کاری خارجہ پالیسی کا بنیادی محور قرار

مذاکرات کے دوران اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ سی پیک 2.0 بنیادی ڈھانچے سے صنعتی ترقی، رابطہ کاری سے مسابقت، سرمایہ کاری سے پیداواری صلاحیت اور حکومتی تعاون سے کاروباری شراکت داری کی جانب اہم منتقلی ہے۔

اس موقع پر سی پیک 2.0 کے 5 کوریڈورز اور پاکستان کے ’اڑان پاکستان‘ کے 5 ایز کے فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو بھی اجاگر کیا گیا۔ فریقین نے اس ہم آہنگی کو کاروباری شراکت داری، ٹیکنالوجی و جدت، روزگار و ہنرمندی، برآمدات، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی میں عملی طور پر تبدیل کرنے پر زور دیا۔

چینی وفد کو سی پیک کے پہلے مرحلے کی پیش رفت اور اہم کامیابیوں جبکہ سی پیک 2.0 کی ترجیحات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں صنعتی تعاون، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، کان کنی و معدنیات، گوادر کی ترقی اور کاروباری شراکت داری کے فروغ سمیت مختلف شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔

فریقین نے پالیسی رابطہ کاری مزید مضبوط بنانے، عمل درآمد کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے اور عملی تعاون کو وسعت دینے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں جانب سے ترقیاتی ہم آہنگی مزید گہری کرنے، باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو فروغ دینے اور سی پیک 2.0 کو اعلیٰ معیار کی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے اہم محرک کے طور پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp