پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اعتراف کیا ہے کہ موبائل آپریٹرز نے گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیرف میں 22 فیصد تک اضافہ کیا ہے تاہم اتھارٹی نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں ہر ماہ قیمتوں میں 10 سے 20 فیصد اضافہ کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کا پری پیڈ صارفین کے لیے اہم فیصلہ، ریچارج بیلنس کی کم از کم 180 دن کی مدت مقرر
سرکاری دستاویزات کے مطابق پی ٹی اے نے جاز، ٹیلی نار، زونگ اور یوفون کی جانب سے پیش کیے جانے والے صارفین کے حساب سے دس اہم ترین پیکجز کا تجزیہ کیا جس سے ظاہر ہوا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران اوسط ٹیرف میں 12 سے 22 فیصد تک اضافہ ہوا۔
تاہم اتھارٹی کا کہنا تھا کہ یہ سالانہ اضافہ ماہانہ بنیاد پر تقریباً ایک سے 2 فیصد کے برابر بنتا ہے اور موبائل آپریٹرز کی جانب سے ماہانہ بنیادوں پر 10 سے 20 فیصد قیمتوں میں اضافے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
یہ اعتراف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صارفین میں موبائل پیکجز کی مسلسل بڑھتی قیمتوں پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور ٹیلی کام صارفین کو کالز، ڈیٹا اور دیگر موبائل سروسز کے لیے زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق وہ 30 نومبر 2025 کو جاری کیے گئے انضمام کے حکم نامے (مرجر آرڈر) کے تحت جاز کو ’سگنیفیکنٹ مارکیٹ پاور‘ آپریٹر ہونے کی حیثیت سے جبکہ یوفون اور ٹیلی نار کے ٹیرف کو بھی ریگولیٹ کر رہی ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق زونگ غیر ایس ایم پی آپریٹر ہونے کے ناطے اپنے کمرشل فیصلوں کے مطابق اپنے ٹیرف میں تبدیلی کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: پی ٹی اے کا غیر قانونی انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن
تاہم پی ٹی اے نے واضح کیا کہ موبائل ٹیرف ریگولیشنز 2025 کے تحت اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ جہاں ٹیرف صارفین کے مفادات پر منفی اثر ڈالیں وہاں مداخلت کی جا سکے۔
اتھارٹی نے بتایا کہ قانون کے تحت اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کے مفادات کا تحفظ کرے اور ساتھ ہی ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری پر مناسب منافع بھی یقینی بنائے۔
جواب کے مطابق پی ٹی اے، ایس ایم پی آپریٹر جاز کے ٹیرف کو صارفین کے مفادات، مہنگائی، موجودہ معاشی حالات اور مارکیٹ میں مسابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدگی سے منظور کرتی ہے۔
اس کے علاوہ اتھارٹی گمنام بلنگ تصدیقی مشقیں بھی کرتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صارفین سے منظور شدہ نرخوں کے مطابق ہی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔
ریگولیٹر کے مطابق ٹیرف سے متعلق شکایات یا بلنگ میں تضادات کا سامنا کرنے والے صارفین اپنی شکایات پی ٹی اے کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے درج کروا سکتے ہیں جو اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ، سی ایم ایس ایپلیکیشن اور ہیلپ لائن پر دستیاب ہے۔ پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ایسی شکایات کو متعلقہ آپریٹر کے ساتھ متعلقہ قانونی فریم ورک کے تحت ازالے کے لیے اٹھایا جاتا ہے۔
پی ٹی اے کی وضاحت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال کے دوران موبائل ٹیرف میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو بعض صورتوں میں 22 فیصد تک پہنچا تاہم اتھارٹی اسے مبینہ طور پر زیادہ بتائے جانے والے 10 سے 20 فیصد ماہانہ اضافے کے مساوی تصور نہیں کرتی۔
مزید پڑھیں: کونسی سمیں بند ہونے والی ہیں؟ پی ٹی اے نے موبائل فون صارفین کو خبردار کردیا
واضح رہے کہ ٹیرف کا یہ معاملہ اس لیے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ موبائل کنیکٹیویٹی اب گھرانوں، کاروباری اداروں اور ڈیجیٹل صارفین کے لیے ایک لازمی خدمت بن چکی ہے، جس کے باعث بار بار قیمتوں میں تبدیلی صارفین کے لیے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔














