پمز اسپتال میں پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی تشکیل کردہ کمیٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اسپتال سے شواہد حاصل کرلیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے گزشتہ روز پمز اسپتال کا دورہ کیا، جہاں اسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں سے پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں سے بھی معلومات حاصل کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی سے 48 گھنٹوں میں عبوری رپورٹ طلب کر رکھی ہے، جبکہ کمیٹی واقعے کی مکمل تحقیقات اور قابلِ عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ پانچ روز کے اندر وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:’محفوظ ترین جگہ بھی حفاظت نہ کرسکی’، پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات بھی سراپا احتجاج
ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری شاہد خان کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر خورشید اُترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کمیٹی کے ارکان میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی منتقلی کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے گی۔ ہائی رسک نوزائیدہ بچوں کے انخلا کے لیے ہنگامی ایس او پیز پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
کمیٹی نے پمز میں فائر سیفٹی انفراسٹرکچر اور حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داری کے تعین اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:پمز نرسری واقعہ: آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں، سربراہ قائمہ کمیٹی صحت ڈاکٹر مہیش کمار کا انکشاف
دریں اثنا سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق سیکریٹری صحت نے وزیراعظم کو پمز اسپتال حادثے کی تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا۔














