افتخار گیلانی کی مخصوص نشست سے وزارت عظمیٰ تک رسائی، مجاہد اول سردار عبدالقیوم کی مثال بھی موجود

اتوار 30 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کے ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے اور پھر وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے پر سیاسی حلقوں میں تنقید کی جارہی ہے، تاہم آزاد کشمیر کی پارلیمانی تاریخ میں یہ کوئی پہلی مثال نہیں۔

افتخار گیلانی حالیہ عام انتخابات میں مظفرآباد کی نشست پر کامیاب نہیں ہوسکے تھے، جس کے بعد مسلم لیگ ن نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا۔ وہ 24 اگست کو ٹیکنوکریٹ نشست پر منتخب ہوکر قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنے اور محض چند روز بعد 28 اگست کو 30 ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

ان کی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ ن کے اندر بھی تحفظات سامنے آئے اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ عام نشست پر شکست کھانے والے شخص کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کرنا کیا سیاسی طور پر درست فیصلہ ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے بھی افتخار گیلانی کی نامزدگی پر اصولی اختلاف کا اظہار کیا اور کہاکہ عام انتخابات میں شکست کے بعد مخصوص نشست کے ذریعے وزیراعظم بنانا ’ووٹ کو عزت دو‘ کے مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاہم مخصوص نشست پر منتخب ہوکر اسمبلی کا رکن بننے پر نہ کوئی آئینی پابندی ہے اور نہ اخلاقی، جبکہ ماضی میں بھی ایسا ہوچکا ہے۔

آئین کیا کہتا ہے؟

اس بحث میں ایک اہم پہلو آزاد کشمیر کا آئینی طریقہ کار ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی اپنے مسلم ارکان میں سے کسی ایک کو وزیراعظم منتخب کرتی ہے۔

آئینی شق میں یہ شرط موجود نہیں کہ وزیراعظم لازماً عام نشست پر براہ راست منتخب ہوکر اسمبلی میں پہنچا ہو۔ وزیراعظم کا انتخاب اسمبلی کے ارکان کرتے ہیں اور کامیاب امیدوار کو مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا ہوتی ہے۔

یعنی آئینی اعتبار سے بنیادی سوال یہ ہے کہ وزیراعظم منتخب ہونے والا شخص قانون ساز اسمبلی کا رکن ہے یا نہیں اور اسے مطلوبہ پارلیمانی اکثریت حاصل ہے یا نہیں۔

موجودہ قانون ساز اسمبلی میں ٹیکنوکریٹس اور دیگر مخصوص نشستیں بھی آئینی و قانونی نظام کا حصہ ہیں۔

مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کی مثال

مخصوص نشست سے وزیراعظم بننے کی سب سے نمایاں تاریخی مثال مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کی ہے۔

1991 کے انتخابات میں مسلم کانفرنس نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس وقت سردار عبدالقیوم خان صدر آزاد کشمیر تھے۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے لیے انہوں نے صدارت سے استعفیٰ دیا اور قانون ساز اسمبلی کی علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر انتخاب لڑا۔

سردار عبدالقیوم خان 29 جولائی 1991 کو علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اسی روز آزاد کشمیر کے وزیراعظم بھی بن گئے۔

اس طرح انہوں نے مخصوص نشست سے اسمبلی میں آنے کے بعد وزارت عظمیٰ سنبھالی اور 1991 سے 1996 تک اس منصب پر فائز رہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سردار عبدالقیوم خان کے مخصوص نشست پر انتخاب کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا، تاہم درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

دونوں معاملات میں مماثلت کیا ہے؟

افتخار گیلانی اور سردار عبدالقیوم خان کے سیاسی حالات ایک جیسے نہیں تھے، لیکن دونوں واقعات میں ایک بنیادی مماثلت ضرور موجود ہے۔ دونوں مخصوص نشست کے ذریعے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بننے کے بعد وزارت عظمیٰ تک پہنچے۔

فرق یہ ہے کہ سردار عبدالقیوم خان 1991 میں علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئے تھے، جبکہ افتخار گیلانی 2026 میں ٹیکنوکریٹ کی نشست پر منتخب ہوئے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ افتخار گیلانی حالیہ عام انتخابات میں اپنی براہ راست نشست سے کامیاب نہیں ہوسکے تھے، جبکہ سردار عبدالقیوم خان کی 1991 میں مخصوص نشست پر آمد کا پس منظر مختلف تھا اور وہ اس وقت صدر آزاد کشمیر تھے۔

تنقید کا اصل محور کیا ہے؟

افتخار گیلانی کے معاملے میں موجودہ تنقید کا بنیادی محور آئینی اہلیت سے زیادہ سیاسی مینڈیٹ کا سوال ہے۔

تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ عام انتخابات میں براہ راست عوام سے ووٹ نہ لینے والے شخص کو حکومت کا سربراہ بنانا عوامی نمائندگی کے تصور کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔

دوسری جانب افتخار گیلانی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم کا انتخاب براہ راست عوام نہیں بلکہ قانون ساز اسمبلی کرتی ہے، اور اسمبلی کا ہر آئینی طور پر منتخب رکن، خواہ وہ عام نشست سے آیا ہو یا مخصوص نشست سے، قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینے کا حق رکھتا ہے۔

یوں افتخار گیلانی کا مخصوص نشست سے وزیراعظم بننا سیاسی بحث کا موضوع ضرور ہے، لیکن اسے آزاد کشمیر کی تاریخ میں غیر معمولی یا پہلی مثال قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

اب افتخار گیلانی کے لیے اصل سوال ان کی نشست نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر رہتے ہوئے اپنے اعلان کردہ روڈ میپ، اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کے وعدوں کو کس حد تک عملی شکل دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا، بیرسٹر افتخار گیلانی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی ڈیلور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں تو عوام کے اعتماد پر پورا اترنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp