ضلعی انتظامیہ اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، جس کے بعد پارٹی کو تاریخی لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اجازت ملنے کی اس پیش رفت کے فوراً بعد انتظامیہ نے پارک کے دروازے کھول دیے ہیں اور کارکنوں نے پنڈال سجانے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کو ضلعی انتظامیہ اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان جلسے کے انتظامات پر موجود اختلافات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں۔
فریقین کے درمیان معاہدہ ہونے کے بعد انتظامیہ نے لیاقت باغ کا کنٹرول جماعت اسلامی کے کارکنوں کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اپنے ایونٹ کی تیاریاں کر سکیں۔ جلسہ گاہ میں کرسیاں، ساؤنڈ سسٹم، لائٹنگ کا سامان اور دیگر ضروری اشیا پہنچا دی گئی ہیں اور پنڈال کی تزئین و آرائش کا کام تیزی سے جاری ہے۔
مری روڈ پر دھرنے کی دھمکی
ابتدا میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جماعت اسلامی کو لیاقت باغ میں عوامی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
اس فیصلے پر جماعت اسلامی کی قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے متبادل کے طور پر مصروف ترین شاہراہ مری روڈ پر دھرنا دینے کا اعلان کر دیا تھا۔
تاہم اب انتظامیہ کی جانب سے اجازت مل چکی ہے اور پارٹی کی تمام تر توجہ لیاقت باغ کے جلسے کو کامیاب بنانے پر مرکوز ہے۔














