آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔
امریکی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے لارک پر حملے اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خطے میں جاری تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
پیر کو 0040 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے سودے 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے کے ساتھ 89.18 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 92 سینٹ یا 1.10 فیصد بڑھ کر 84.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر امریکی حملے کے انتباہ کے بعد تیل کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد اضافہ
امریکی فورسز نے اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے لارک پر 2 میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔
جولائی کے اواخر کے بعد خلیجی خطے میں ایران کے خلاف یہ امریکا کی پہلی معلوم فوجی کارروائی ہے۔
ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے پیر کو بتایا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے اردن میں موجود 2 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
Oil prices jumped more than $1 a barrel after the US attacked an Iranian island in the Strait of Hormuz and drew retaliation from Tehran, as conflict in the Middle East extended into its sixth month https://t.co/q2OSWzWqnU
— Reuters (@Reuters) August 31, 2026
ماہرین کے مطابق، اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 85.80 سے 85.90 ڈالر فی بیرل کی مزاحمتی سطح سے اوپر چلی جاتی ہے تو مزید اضافے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
ابتدائی طور پر قیمت گزشتہ ہفتے کی 87.69 ڈالر کی بلند ترین سطح اور بعد ازاں جولائی کی 93.50 ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ ثالث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اسی اہم بحری راستے سے گزرتا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدے کی راہ اگرچہ اب بھی واضح نہیں، تاہم اس راستے سے تیل کی ترسیل میں اضافے نے عالمی سپلائی میں بڑے تعطل کے خدشات کو کسی حد تک محدود رکھا ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے نمایاں تجارتی جہازوں کی تعداد کم ہو کر روزانہ صرف 5 رہ گئی، جو حملوں کے خدشے کے باعث شپنگ کمپنیوں کی محتاط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
Explosion heard near southern 🇮🇷Larak Island amid reports of 🇺🇸strike.
American media says🇺🇸#US forces struck 2 #Iranian launchers.
USA claimed to have cleaned all mines.
Strike in🇮🇷mark the first from🇺🇸in a month. Oil prices rose more than 2%, pushing Brent above $89 a barrell⬇️ pic.twitter.com/vhKS1OW5kR— 🇺🇸 🇺🇸 🇺🇸Midobecker 🇺🇸 🇺🇸 🇺🇸 (@midobecker_1) August 31, 2026
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی اتوار کو بتایا کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ وینزویلا کے ساتھ حالیہ معاہدے کے تحت حاصل ہونے والا تیل امریکا کے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو تقریباً 44 برس کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکا ہے۔













