پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، جو 31 اگست 2026 کو استنبول میں منعقد ہوا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے علاقائی ذمہ داری کے احساس کے ساتھ مکہ معاہدے کے فریم ورک میں مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔
🔈 PR No. 2️⃣3️⃣1️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
STRATEGIC POLITICAL AND DEFENCE COMMITTEE OF THE MAKKAH AGREEMENT FOR JOINT DEFENCE – JOINT STATEMENT
🔗⬇️ pic.twitter.com/WAJfYdYCoL
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 31, 2026
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کشیدگی میں کمی اور تحمل کے لیے کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ بحرانوں کا پرامن حل تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔
اجلاس میں مکہ معاہدے کے تحت تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنانے کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس تعاون کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان یکجہتی کو فروغ دینا، مشترکہ دفاعی روک تھام اور دفاع کی ساکھ و مؤثریت کو یقینی بنانا اور منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے لیے علاقائی کوششوں اور مشترکہ سلامتی میں کردار ادا کرنا ہے۔
سعودی عرب میں سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ
مشترکہ اعلامیے کے مطابق مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت تینوں ممالک کے باہمی تعاون اور کام کو معاونت فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک سیکریٹریٹ قائم کیا جائے گا، جس کی سربراہی سیکریٹری جنرل کریں گے۔
سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، جو 3 سال کی مدت کے لیے اس ذمہ داری پر فائز رہیں گے۔
دفاعی صلاحیتوں اور دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
تینوں ممالک نے مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی تعاون و ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار
اس مقصد کے لیے مضبوط دفاعی صنعتی تعاون، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور مشترکہ پیداوار کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مکہ معاہدے پر ادارہ جاتی اور پرعزم انداز میں عملدرآمد کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے کے امن اور استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔














