انگلینڈ کے جنوب مغربی علاقے میں واقع پراسرار قدیم پتھریلا دائرہ ’اسٹون ہینج‘ صدیوں سے ماہرین کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے اسے تدفین، مذہبی رسومات اور قربانیوں سمیت مختلف مقاصد سے جوڑا، تاہم 1960ء کی دہائی میں امریکی ماہرِ فلکیات جیرالڈ ہاکنز نے ایک منفرد نظریہ پیش کیا کہ اسٹون ہینج دراصل ایک قدیم ’فلکیاتی کمپیوٹر‘ تھا، جس کی مدد سے چاند کی حرکات کا جائزہ لے کر سورج اور چاند گرہن کی پیش گوئی کی جاسکتی تھی۔
ہاکنز نے 1965ء میں اپنی معروف کتاب Stonehenge Decoded میں اس نظریے کی تفصیلات بیان کیں۔ اگست 1966ء میں بی بی سی کے پروگرام ’ کرونیکل ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اسٹون ہینج کے ایک پیمانے کے مطابق تیار کردہ ماڈل کی مدد سے بتایا کہ اس کے سب سے بڑے دائرے میں 56 سوراخ موجود ہیں۔ ان کے مطابق 56 ایسا منفرد عدد تھا جو چاند کی مخصوص گردشوں کے ساتھ مطابقت رکھتا تھا اور یہ سوراخ گرہنوں کی پیش گوئی کے لیے ایک سادہ’گنتی کے آلے ‘ کے طور پر استعمال کیے جاسکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے ناسا کی طاقتور نئی خلائی دوربین خلا میں روانہ، کائنات کے بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے کا مشن
ہاکنز نے بتایا کہ انہوں نے 1961ء میں اسٹون ہینج کا دورہ کیا اور صبح کے وقت پتھریلی محرابوں کے درمیان سے طلوع آفتاب کا مشاہدہ کیا۔ انہیں محسوس ہوا کہ قدیم معماروں نے محرابوں کو اس انداز میں ترتیب دیا تھا کہ دیکھنے والے کی نظر افق کے مخصوص مقامات پر مرکوز ہوجائے۔ بعدازاں وہ اسٹون ہینج کے مرکز، پتھروں، محرابوں، سوراخوں اور ٹیلوں کے نقشے امریکا لے گئے، جہاں ہارورڈ اسمتھ سونین آبزرویٹری میں ایک الیکٹرانک کمپیوٹر کی مدد سے یہ حساب لگایا گیا کہ اسٹون ہینج کی تعمیر کے زمانے میں مختلف مقامات سے سورج اور چاند کہاں دکھائی دیتے تھے۔ ان کے مطابق نتائج سے معلوم ہوا کہ کئی پتھریلی ترتیبیں سورج اور چاند کے طلوع و غروب کے مخصوص مقامات کی جانب اشارہ کرتی تھیں۔

تاہم ہاکنز کے نظریے کو ابتدا ہی میں تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور بعد کی تحقیق نے اسے مزید کمزور کردیا۔ ماہرِ آثارِ قدیمہ رچرڈ ایٹکنسن نے 1966ء میں خبردار کیا تھا کہ اگرچہ اسٹون ہینج کی ترتیب میں فلکیاتی اہمیت موجود ہوسکتی ہے، تاہم اس کی تشریح میں علمی احتیاط ضروری ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرِ آثارِ قدیمہ پروفیسر مائیکل پارکر پیئرسن کے مطابق ’گرہنوں کے کمپیوٹر‘ کا نظریہ اب مسترد ہوچکا ہے۔ جدید شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ اسٹون ہینج ایک ہی مرحلے میں تعمیر نہیں ہوا بلکہ اسے 1,500 سال سے زیادہ عرصے میں مختلف مراحل میں تعمیر کیا گیا۔ سورج اور چاند کی سمتوں سے متعلق اس کی ترتیب بھی اتنی درست نہیں کہ اسے وقت ناپنے یا گرہنوں کی پیش گوئی کرنے والا باقاعدہ آلہ قرار دیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں:ناسا کا سوئفٹ دوربین کو بچانے کا مشن ناکام، اب کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق اسٹون ہینج زیادہ تر سورج اور چاند کی مخصوص حرکات کو اجاگر کرنے والی ایک یادگار تھا، جبکہ برطانیہ میں چاند گرہنوں کا مشاہدہ اور ممکنہ پیش گوئی کرنے کے شواہد اسٹون ہینج کے عروج کے تقریباً 1,500 سے 2,000 سال بعد کے زمانے سے ملتے ہیں۔













