پیپلز پارٹی کی قیادت لندن میں جمع کیوں ہورہی ہے؟ نفیسہ شاہ نے تفصیل بتادی

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق مسلسل بحث کے باعث سندھ میں شدید ردعمل پیدا ہوا ہے اور پیپلز پارٹی کو اپنے ووٹرز اور عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے پر جواب دینا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے نہ پہلے جڑی تھی اور نہ اب جڑی ہوئی ہے، تاہم پارلیمان میں وہ نظام، جمہوریت اور سیاسی استحکام کے لیے حکومت کے ساتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے 36 ڈویژنز کو انتظامی یونٹس بنایا جا سکتا ہے، ضروری نہیں ان میں الگ اسمبلیاں یا وزرائے اعلیٰ ہوں، خواجہ آصف

صدر مملکت کے بیرون ملک ہونے اور ان کے ممکنہ طور پر واپس نہ آنے سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں اور پیپلز پارٹی کی جانب سے باہر بیٹھ کر ملک میں بڑی تحریک چلانے کے امکان سے متعلق سوال پر نفیسہ شاہ نے کہا کہ معاملہ اس لحاظ سے سنجیدہ ہوگیا ہے کہ لوگوں نے اس پر ردعمل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے اور اسے سندھ میں پیدا ہونے والے ردعمل کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر پیپلز پارٹی نہ ہو تو سندھ کے قوم پرست سیاسی میدان پر حاوی ہوسکتے ہیں۔

آئین، وفاق اور نئے صوبوں پر نفیسہ شاہ کا مؤقف

چھوٹے صوبوں کی بحث کے بعد سندھ اسمبلی میں پیدا ہونے والی تلخی اور سخت تقاریر سے متعلق سوال پر نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان کا آئین ایک طے شدہ معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین کو کئی مرتبہ توڑنے کی کوشش کی گئی، جمہوریت پر کئی بار حملے ہوئے اور آئین کو مسمار کیا گیا، لیکن جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں اسے بار بار بحال کیا گیا۔

نفیسہ شاہ نے اس حوالے سے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور دیگر جمہوری قوتوں کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہی قوتوں نے آئین کی بحالی کے لیے کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین میں ملک کا مکمل سماجی معاہدہ، ریاستی ڈھانچہ، عدلیہ کا کردار اور انتظامی نظام کے طریقہ کار کا تعین موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی سب سے اہم بنیاد وفاقیت ہے اور پاکستان کا نظام جمہوری، وفاقی اور پارلیمانی ہے۔

نفیسہ شاہ کے مطابق وفاق کی بنیاد اس کی اکائیاں ہیں اور یہ اکائیاں پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے کی ہیں، بالخصوص سندھ کی تاریخی حیثیت موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت، ہم مطالبہ نہیں بلکہ تجویز کی حمایت کر رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

انہوں نے خبردار کیا کہ وفاق کے ڈھانچے کو متاثر کیا جائے گا تو ملک میں سیکیورٹی سے متعلق مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا معاملہ بذات خود کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس پر بات نہیں ہوسکتی۔ ان کے مطابق آئین میں یہ نہیں کہا گیا کہ نئے صوبے نہیں بن سکتے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کسی صوبے کے اندر نیا صوبہ بنانا ہو یا اس کی حدود تبدیل کرنی ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کو دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کرنا ہوگی، جس کے بعد ہی معاملے پر مزید پیش رفت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یہ اختیار متعلقہ صوبے کا ہے تو وفاقی وزیر کو اچانک اس معاملے پر بات کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ وفاقی وزیر کو اپنے متعلقہ معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے پی سی بی، وزارت داخلہ، اسلام آباد اور پمز کے حالات کا ذکر کیا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ اس معاملے میں زیادہ نہیں جانا چاہتیں کیونکہ ایسا کرنے سے پوائنٹ اسکورنگ ہوگی۔

انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک دن وفاقی وزیر نے اچانک انتظامی یونٹس کی بات شروع کردی۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی یونٹس پہلے ہی موجود ہیں۔ ملک میں یونین کونسلز موجود ہیں اور یہ نظام برطانوی راج کے دور سے چلا آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اضلاع بھی انتظامی یونٹس ہیں، ڈویژنز بھی موجود ہیں، وہاں کمشنرز کام کرتے ہیں، اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز موجود ہیں، یونین کونسلز کے چیئرپرسنز ہیں، بلدیاتی ادارے ہیں اور میٹروپولیٹن کارپوریشنز بھی موجود ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی یہ تمام اکائیاں پہلے ہی قائم ہیں۔

پنجاب اور بلدیاتی نظام پر تنقید

نفیسہ شاہ نے کہا کہ اگر کہیں یہ نظام موجود نہیں تو وہ پنجاب ہے۔

انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے جڑی ہوئی جماعت مسلم لیگ ن کبھی نہیں چاہتی کہ بلدیاتی نظام قائم ہو کیونکہ وہ اپنی اجارہ داری چھوڑنا نہیں چاہتی۔

ان کے مطابق اصل مسئلہ نئے انتظامی یونٹس نہیں بلکہ بلدیاتی نظام ہے اور اس پر بات ہونی چاہیے۔

جب ان سے کہا گیا کہ پیپلز پارٹی وزیراعظم سے بھی اس حوالے سے بات کرسکتی ہے کیونکہ دونوں جماعتیں اتحادی ہیں اور پیپلز پارٹی کے پاس اہم عہدے بھی موجود ہیں، تو نفیسہ شاہ نے سوال کیا کہ انہیں ایک وفاقی وزیر کی شروع کی گئی بحث پر وزیراعظم سے بات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئے۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ ایک وفاقی وزیر کی بحث کے جواب میں پیپلز پارٹی اتنی آگے کیوں چلی گئی اور سندھ اسمبلی میں اتنی سخت تقاریر کیوں ہونے لگیں۔

نفیسہ شاہ نے جواب دیا کہ پیپلز پارٹی خود سے آگے نہیں بڑھی بلکہ ایک جانب کچھ لوگوں نے یہ بحث شروع کی۔

یہ بھی پڑھیں: نئے انتظامی یونٹس کے بغیر بہتر گورننس ممکن نہیں، ایس ڈی پی آئی کے قومی مباحثے میں ماہرین کا اتفاق

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں میں لاہور کے ایک سابق میئر بھی شامل ہیں جنہوں نے اس حوالے سے ایک تحریری تجویز یا پرچہ گردش میں لایا۔

نفیسہ شاہ نے میڈیا کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جب میڈیا مسلسل مائیک لے کر انتظامی یونٹس سے متعلق سوالات پوچھنے لگے تو اس سے ایک پورا بیانیہ اور ڈسکورس بننے لگتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے کہیں سے کسی کو ‘چابی’ دی جارہی ہو۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے نفیسہ شاہ نے بچپن کے چابی والے کھلونوں کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کھلونے کو چابی دی جاتی تھی تو وہ چلنا شروع کردیتا تھا اور کچھ دیر بعد اس کی طاقت ختم ہوجاتی تھی۔

نفیسہ شاہ نے بعض لوگوں کو اسی طرح کی ‘کلاک ورک مشینیں’ قرار دیا۔

انہوں نے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر، جن کے پاس صحت اور پمز سے متعلق ذمہ داریاں ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی کلاک ورک کی طرح یہ بحث شروع کردی، جبکہ ایک سابق میئر نے بھی اسی معاملے کو آگے بڑھایا۔

نفیسہ شاہ کے مطابق سب سے پہلے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں کی تحریک اور مقصد کیا تھا اور ایک ایسے معاملے کو مسئلہ کیوں بنایا گیا جو پہلے مسئلہ ہی نہیں تھا۔

‘ہمارے بھی حلقے اور ووٹرز ہیں’

نفیسہ شاہ نے کہا کہ اگر یہ لوگ مسلسل نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر بات کرتے رہیں گے تو پیپلز پارٹی بھی خاموش نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بھی حلقے ہیں، ووٹرز ہیں اور علاقے ہیں۔

ان کے مطابق مسلسل بحث کے نتیجے میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔

انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کے رویے سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ شاید معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور اس پر کسی سنجیدہ سطح پر گفتگو ہوئی ہے۔

اسی سوال میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر مملکت اس وقت بیرون ملک ہیں اور افواہیں گردش کررہی ہیں کہ شاید وہ واپس نہ آئیں اور پیپلز پارٹی بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان میں ایک بڑی تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہو۔

نفیسہ شاہ نے جواب دیا کہ معاملہ اس لحاظ سے سنجیدہ ہے کہ عوام نے اس پر ردعمل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے اور سندھ میں پیدا ہونے والے عوامی ردعمل کو اسے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔

‘پیپلز پارٹی نہ ہو تو قوم پرست سندھ کو ٹیک اوور کرلیں’

نفیسہ شاہ نے کہا کہ سندھ میں قوم پرست قوتیں موجود ہیں اور اگر پیپلز پارٹی نہ ہو تو قوم پرست سندھ کو سیاسی طور پر ٹیک اوور کرسکتے ہیں۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کو وفاق کی جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ جماعت ہے جس نے مشکل اوقات میں ملک کو بچانے کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی پیپلز پارٹی نے ملک کو بچایا۔

نفیسہ شاہ نے صدر آصف علی زرداری کے ‘پاکستان کھپے’ کے نعرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی بنیادی طور پر وفاق سے جڑی ہوئی سیاسی جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سیاست وفاق کی سیاست ہے، تمام صوبوں کی سیاست ہے اور جمہوری پارلیمانی نظام کے تحفظ کی سیاست ہے۔

نفیسہ شاہ کے مطابق جب پیپلز پارٹی کو محسوس ہوگا کہ قوم پرستانہ یا سب نیشنل تحریک جنم لے رہی ہے، چاہے اسے کسی نے بھی شروع کیا ہو یا کسی ‘کلاک ورک’ نے اسے متحرک کیا ہو، تو پارٹی کو اپنے لوگوں کو سنبھالنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کہ سندھ کے تمام لوگ قوم پرست جماعتوں کی طرف رخ کرلیں۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو وفاق کی بات کرنی ہے اور وفاق سے جڑے رہنا ہے، اور اسی دائرے کے اندر صوبوں کے حقوق کی بھی بات کرنی ہے۔

‘وفاقی حکومت سے نہ پہلے جڑے تھے، نہ ابھی جڑے ہیں’

نفیسہ شاہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت سے نہ پہلے جڑی ہوئی تھی اور نہ اب جڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمان میں وفاقی حکومت کے ساتھ ہے، نظام کے ساتھ ہے، جمہوریت کے ساتھ ہے اور سیاسی استحکام کے ساتھ ہے۔

ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہیں ایسا نہیں لگتا کہ وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی کی جگہ پاکستان تحریک انصاف لے سکتی ہے اور پی ٹی آئی وفاقی حکومت کے ساتھ چل سکتی ہے۔

نفیسہ شاہ نے جواب دیا کہ پاکستان تحریک انصاف پہلے اپنی سیاسی جگہ تو بنائے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پوری سیاست اپنے قائد کے گرد مرکوز ہے اور اس وقت بھی اس جماعت کی سیاست اپنے رہنما کی رہائی کے گرد گھوم رہی ہے۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ اتنا بڑا مسئلہ بن چکا ہے یا بنا دیا گیا ہے، لیکن اس پر پی ٹی آئی کی جانب سے جواب یہ آتا ہے کہ جب خان صاحب باہر آئیں گے تو وہ بتائیں گے اور پھر پارٹی اپنی پالیسی بنائے گی۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب کسی جماعت کی پالیسی اس قدر شخصی مرکزیت پر مبنی ہو تو وہ پیپلز پارٹی کی جگہ کیسے لے سکتی ہے۔

‘پیپلز پارٹی پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والی جماعت ہے’

نفیسہ شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمان کو اہمیت دیتی ہے، قانون سازی پر یقین رکھتی ہے اور اس وقت بھی پارلیمانی اور جمہوری اقدار کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

نفیسہ شاہ نے مسلم لیگ ن کی پالیسیوں سے اختلاف بھی واضح کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ ن کی کئی پالیسیاں پسند نہیں ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے ساتھ رہے گی، تو نفیسہ شاہ نے کہا کہ یہ وقت بتائے گا کہ کیسے، کب اور کیوں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کی بنیاد پر پارٹی نے آئینی پوزیشنز اختیار کی ہوئی ہیں۔

نفیسہ شاہ کے مطابق آئینی پوزیشنز استحکام کی پوزیشنز ہوتی ہیں اور ان کے پاس کوئی ایگزیکٹو اتھارٹی نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp