’میں نے اللہ کے ساتھ سودا کر لیا‘، یاسین ملک نے وکیل کرنے سے کیوں انکار کیا؟ بہن عابدہ ملک کا سنسنی خیز انٹرویو

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حریت رہنما یاسین ملک کی بڑی بہن عابدہ ملک نے بھارتی ٹی وی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ یاسین ملک نے بھارتی عدالتوں میں اپنے مقدمات کی پیروی نہ کرنے اور ‘زندگی کی بھیک نہ مانگنے’ کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

انٹرویو کے دوران عابدہ ملک نے بتایا کہ یاسین ملک نے شدید عدالتی معاندانہ رویے اور ممکنہ پھانسی کے پیشِ نظر اپنی اہلیہ مشعال ملک کو ’تنہا زندگی کے صدمے‘ سے بچانے کے لیے اپنے نکاح سے آزاد کر دیا ہے جبکہ اپنی معصوم بیٹی اور والدہ کو صبر کی تلقین کی ہے۔

عابدہ ملک کے مطابق ایڈووکیٹ عادل پنڈت کے ذریعے یاسین ملک کا پیغام ملنے پر اشٹام پیپر جیل بھیجا گیا تھا، مگر جب اس پر تحریر شدہ حلف نامہ اور وصیت کی کاپی سامنے آئی تو اہل خانہ کے ‘پاؤں تلے سے زمین نکل گئی’۔

انہوں نے بتایا کہ اس تحریر پر پہلے عدالت سے رجوع کیا گیا لیکن درخواست مسترد ہونے پر اسے موبائل کے ذریعے بین الاقوامی اور بھارتی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھیجا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:حریت رہنما یاسین ملک کی قید، اہلِ خانہ نڈھال، بیٹی رضیہ سلطان ذہنی صدمے کے باعث اسپتال منتقل

اسی دوران یاسین ملک کی معصوم بیٹی رضیہ سلطان کے جذباتی پیغام نے پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا۔

مشعال ملک کو طلاق اور بیٹی کے نام آخری وصیت

مشعال ملک سے الگ ہونے کے حوالے سے عابدہ ملک نے وضاحت کی کہ اس فیصلے کی کی کوئی ناچاقی یا منفی وجہ نہیں ہے۔

یاسین ملک نے اپنی وصیت میں لکھا کہ ‘مشعال مجھ سے 20 سال چھوٹی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ میری عدم موجودگی میں تنہا اور بے کس زندگی گزاریں، اس لیے میں انہیں اپنے نکاح سے آزاد کرتا ہوں تاکہ وہ دوسری خوشگوار زندگی گزار سکیں’۔

عابدہ ملک کا کہنا تھا کہ مشعال ہمارے خاندان کا حصہ ہیں اور یاسین ملک نے آخری وقت میں بھی ان کے ساتھ وفاداری اور محبت کا رشتہ نبھایا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی وصیت کی ہے کہ وہ اپنی دادی کا خیال رکھے اور انہیں تسلی دیتی رہے۔

‘زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا’: وکیل کرنے سے صاف انکار

حریت رہنما کی موجودہ حالت کا ذکر کرتے ہوئے ان کی بہن نے بتایا کہ حال ہی میں جب ان سے بات ہوئی تو وہ شدید مایوس تھے اور ان کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تھے۔

یاسین ملک نے اپنی والدہ کو وکیل کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ‘میں نے خدا کے ساتھ سودا کر لیا ہے اور میں اب اپنی زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا’۔

مزید پڑھیں:بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کا قریبی ساتھیوں اور کشمیری عوام کے نام خط، کیا پیغام دیا؟

انہوں نے والدہ سے التجا کی کہ اگر اللہ کے پاس ان کا رزق اور زندگی ہے تو وہ زندہ رہیں گے، بصورت دیگر وہ شہادت یا موت کو خوشی سے قبول کریں گے، جسے میری ماں آپ اور خاندان والوں کو بھی تسلیم کرنا ہوگا۔

اقلیتوں سے محبت اور انسان دوستی کی روشن مثالیں

عابدہ ملک نے ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یاسین ملک کا رویہ ہمیشہ بلا تفریق مذہب تمام انسانوں کے ساتھ محبت پر مبنی رہا ہے۔

عابدہ ملک نے بتایا کہ ‘سرلا بھٹ’ واقعے کے وقت یاسین ملک 4 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگانے کے باعث کوما میں تھے، لہٰذا ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کولکتہ سے تعلق رکھنے والی صحافی سونیا جبار کا ان کے گھر طویل قیام، 2010 کے کشیدہ حالات میں یاتریوں کی امداد، اور سیلاب کے دوران مسلم آبادی سے پہلے مندروں اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں کو راحت پہنچانا یاسین ملک کے انسان دوست رویے کا ثبوت ہے۔

پرتشدد پتھراؤ کے دنوں میں یاسین ملک نے خود اپنی بہن کو مندر کے باہر پہرہ دینے کے لیے بٹھایا تھا تاکہ وہاں مقیم ہندو فیملیز محفوظ رہ سکیں، ایسے میں یاسین ملک کو کس کی پاداشت میں جیل میں بند کر رکھا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp