امریکی خلائی ادارے ناسا نے 5 ستمبر 1977 کو وائیجر 1 خلائی جہاز فلوریڈا کے کیپ کیناویرل سے خلا میں روانہ کیا تھا۔
اس مشن کا مقصد نظامِ شمسی کے بیرونی حصوں کا مشاہدہ اور سیاروں کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرنا تھا۔
وائیجر 1 نے 1979 میں مشتری اور 1980 میں زحل کے قریب سے پرواز کرتے ہوئے ان سیاروں اور ان کے چاندوں کے بارے میں قیمتی سائنسی معلومات زمین پر بھیجیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا کی طاقتور نئی خلائی دوربین خلا میں روانہ، کائنات کے بڑے رازوں سے پردہ اٹھانے کا مشن
ان کامیاب مشاہدات کے بعد خلائی جہاز نے نظامِ شمسی کی بیرونی حدود کی جانب اپنا سفر جاری رکھا اور بالآخر ہیلیوسفیئر سے آگے خلا میں داخل ہو گیا۔
وائیجر 1 اپنے ساتھ ’گولڈن ریکارڈ‘ بھی لے کر جا رہا ہے، جس میں زمین اور انسانی تہذیب کی نمائندگی کرنے والی مختلف آوازیں، موسیقی، تصاویر اور مختلف زبانوں میں خیرسگالی کے پیغامات محفوظ ہیں۔
🚀 On this day in 1977, Voyager 1 left Earth on a journey that still isn’t over.
Launched 49 years ago today, it flew past Jupiter and Saturn before continuing towards interstellar space. Today, it remains the most distant human-made object from Earth. pic.twitter.com/3wP7iFF9AB
— Earth (@earthcurated) September 5, 2026
یہ ریکارڈ اس امید کے تحت تیار کیا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں کسی دوسری تہذیب کو یہ خلائی جہاز ملے تو وہ زمین اور انسانوں کے بارے میں کچھ جان سکے۔
ناسا کے مطابق وائیجر 1 کا اگلا بڑا فلکیاتی پڑاؤ تقریباً 40 ہزار سال بعد متوقع ہے، جب یہ کسی دوسرے ستارے کے نظام کے قریب سے گزرے گا۔
تاہم اس وقت تک انسانی نسل اور ٹیکنالوجی کی صورت حال کیا ہوگی، یہ ایک دلچسپ سائنسی سوال ہے۔
مزید پڑھیں: ناسا نے مریخ کے قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز کی حیرت انگیز ویڈیو جاری کردی
وائیجر پروگرام کا دوسرا خلائی جہاز وائیجر 2 بھی نظامِ شمسی کی تلاش کے لیے روانہ کیا گیا تھا، اسے نظامِ شمسی کے ’گرینڈ ٹور‘ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، جس میں مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کے قریب سے پرواز شامل تھی۔
کششِ ثقل کی مدد سے رفتار بڑھانے کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے وائیجر 2 نے چاروں بڑے بیرونی سیاروں کا مشاہدہ کیا۔
دوسری جانب وائیجر 1 اس وقت زمین سے تقریباً 15.9 ارب میل دور ہے اور اب بھی خلا میں سفر کر رہا ہے۔
Voyager 1, which was launched in 1977, is now about 25 billion kilometers away from Earth, yet it is still in contact with us.
In 2012, Voyager 1 crossed the heliopause and entered interstellar space. Interstellar space is the vast region between stars that begins beyond the… pic.twitter.com/07IE75ylaO
— The Curious Mind (@TheCurioMindX) September 5, 2026
اگرچہ خلائی جہاز سے سائنسی ڈیٹا حاصل کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم اس کے ریڈیوآئسوٹوپ تھرمو الیکٹرک جنریٹر کی توانائی میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بتدریج کمی آئی ہے۔
توانائی بچانے کے لیے ناسا کی ٹیمیں وقتاً فوقتاً خلائی جہاز کے مختلف نظام بند کر رہی ہیں تاکہ دستیاب توانائی کو اہم ترین سائنسی آلات اور مواصلاتی نظام کے لیے زیادہ عرصے تک استعمال کیا جا سکے۔
وائیجر 1 کا سفر انسانی تاریخ کے طویل ترین اور دور ترین خلائی مشنز میں شمار ہوتا ہے اور تقریباً نصف صدی بعد بھی یہ انسان کی کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی ایک منفرد علامت بنا ہوا ہے۔














