وفاقی وزارت صحت میں انتظامی بحران، 18 ماہ میں 7ویں سیکریٹری کا تقرر

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو 3 ماہ کے لیے وفاقی سیکریٹری صحت کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ 18 ماہ کے دوران وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کی سربراہی کرنے والے 7ویں اعلیٰ افسر بن گئے ہیں۔

وزارت میں مسلسل انتظامی تبدیلیوں کے باعث پالیسیوں کے تسلسل اور ادارہ جاتی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر اور اس وقت سیکریٹری پاور ڈویژن کے عہدے پر تعینات ڈاکٹر فخر عالم عرفان فوری طور پر اضافی چارج سنبھالیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، وزیراعظم کا شدید برہمی کا اظہار، وفاقی سیکریٹری صحت معطل

وہ یہ ذمہ داری مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک یا 3 ماہ تک، جو بھی پہلے ہو، انجام دیں گے۔

ان کی تعیناتی کیپٹن (ر) محمد محمود کی جگہ کی گئی ہے، جنہیں چند روز قبل سیکریٹری صحت اسلم غوری کی معطلی کے بعد وزارت صحت کا لک آفٹر چارج دیا گیا تھا۔

اسلم غوری کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد معطل کیا گیا تھا۔

26 اگست کو نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔ ابتدائی انکوائری میں فائر سیفٹی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، انخلا کے انتظامات، عملے اور ادارہ جاتی رابطہ کاری میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بعد ازاں پمز کے اعلیٰ حکام سمیت 8 افسران کی معطلی کی منظوری دیتے ہوئے محکمانہ اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا۔

کیپٹن (ر) محمد محمود کی چند ہی روز بعد تبدیلی اور ڈاکٹر فخر عالم کی تقرری نے وفاقی وزارت صحت میں انتظامی غیر یقینی کی صورتحال کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ، نواز شریف کا ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

ڈاکٹر فخر عالم اس سے قبل سیکریٹری صحت اور چیف سیکریٹری سندھ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، ان کی شہرت ایک خاموش مزاج، پیشہ ور اور اصول پسند افسر کی ہے۔

دوسری جانب وزارت صحت کے کئی اہم ادارے مستقل سربراہوں سے محروم ہیں، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں مستقل چیف ایگزیکٹو اور ایگزیکٹو ڈائریکٹرز موجود نہیں، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ بھی تقریباً 4 برس سے مستقل ڈائریکٹر جنرل سے محروم ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کی ہدایت پر پمز کی براہ راست نگرانی وزیر صحت اور سیکریٹری کے سپرد

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو بھی افرادی قوت کے بحران کا سامنا ہے، متعدد آسامیوں پر بھرتی کا عمل بار بار مؤخر یا منسوخ ہوا ہے، جبکہ اتھارٹی آئندہ ماہ عالمی ادارہ صحت کی میچورٹی لیول تھری سرٹیفکیشن کے اہم جائزے کی تیاری کر رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شعبہ صحت کا تجربہ رکھنے والے سیکریٹری کی تعیناتی سے انتظامی سمت بہتر ہوسکتی ہے، تاہم مستقل بہتری کے لیے مستقل تقرریوں، شفاف بھرتیوں اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp