کیا سورج ایک سیارہ نگل گیا؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سورج کی سطح پر لیتھیم کی مقدار اس خام مال کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی کم ہے جس سے سورج بنا اور ترکی کے ایک ماہر فلکیات کے خیال میں انہیں معلوم ہے کہ وہ لیتھیم کہاں گیا: ایک سیارہ ہضم ہونے میں۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ کے مختلف حصوں میں سورج گرہن، دن میں اندھیرا چھا گیا

یہ تحقیق ترکی کی ایجی یونیورسٹی کے پروفیسر آف آسٹرونومی مطلو یلدیز نے کی ہے۔ انہوں نے کمپیوٹر سمولیشنز کے ذریعے دو منظرناموں کا موازنہ کیا ، ایک جب نوجوان سورج نے ایک سیارہ نگلا اور دوسرا جب اس نے کوئی سیارہ نہیں نگلا۔

یہ تحقیق رواں سال معروف سائنسی جریدے منتھلی نوٹسز آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہوئی ہے۔ سمولیشنز سے پتا چلا کہ پہلا منظرنامہ آج دوربینوں سے کیے جانے والے مشاہدات سے کہیں زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق لیتھیم کا ٹوٹنا صرف ستارے کے اندر موجود انتہائی زیادہ درجہ حرارت پر ممکن ہے نہ کہ اس کی سطح کے قریب۔ اس لیے ایک نوجوان ستارہ اپنے زیادہ تر لیتھیم کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

کسی ستارے میں لیتھیم کی ایسی کمی کا مطلب ہے کہ کوئی ایسی قوت ضرور ہونی چاہیے جو ستارے کی طرف ایسا مواد کھینچ رہی ہو جو لیتھیم میں کم لیکن دھاتوں سے بھرپور ہو جو ستارے کے اپنے مواد سے مختلف ہو۔

مزید پڑھیے: سورج گرہن انسان کے دماغ اور رویے پر کیا اثر ڈالتا ہے؟ حیران کن سائنسی انکشافات

یلدیز نے اس فرضی سیارے کا نام ’دیو دلیک‘ رکھا ہے جس کا ترکی زبان میں مطلب ہے ’بڑی خواہش‘ جو مرکری کے روایتی طور پر خواہشات سے جڑے ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

یلدیز کے حساب کے مطابق سورج میں گرنے والا کوئی سیارہ فوراً بخارات بن کر ختم نہیں ہوتا۔ سورج کی بیرونی گیسی تہوں کے شدید دباؤ میں ایک ٹھوس اور لوہے سے بھرپور سیارہ اپنے آپ میں سکڑ جاتا ہے اور گرتے ہوئے توقع سے کم مادہ خارج کرتا ہے۔

ان کے ماڈلز میں یہ سیارہ اپنے مرکز کا بیشتر حصہ سورج کے کنویکشن زون کی بنیاد تک برقرار رکھتا ہے جو بالکل وہی گہرائی ہے جہاں شمسی ماڈلز کو اس کے پہنچنے کی ضرورت ہے۔

اس زندہ بچ جانے والا مرکزی مواد دیگر نظریاتی اور مشاہداتی تضادات کو بھی حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے جیسے سورج کے اندر آواز کی لہروں کا پھیلاؤ اور سورج کی کنویکٹیو تہہ کی گہرائی۔

دیگر ستاروں کو بھی اپنے قریب موجود سیاروں کو نگلنے کے باعث روشن اور پھیلتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور یہ معلوم ہے کہ ہاٹ جوپیٹرز آہستہ آہستہ اپنے ستاروں کی طرف کھسک رہے ہیں۔ سورج جیسے ستاروں میں بھی اس طرح کے واقعات کے کیمیائی نشانات دیکھے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: 27 سال بعد یورپ میں مکمل سورج گرہن، آج اسپین اور آئس لینڈ میں شاندار نظارہ ہوگا

تاہم یلدیز کا کام یہ ثابت نہیں کرتا کہ سورج نے یقیناً ایک سپر ارتھ کو نگلا ہے بلکہ صرف یہ کہ یہ نظریہ اب تک آزمائے گئے کسی بھی دوسرے متبادل کے مقابلے میں ڈیٹا سے زیادہ بہتر مطابقت رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp