مسلم لیگ (ن) پنجاب نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاں شروع کرتے ہوئے مشکل وقت میں ساتھ دینے والے مخلص اور دیرینہ کارکنوں کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہفتہ کے روز رانا ثنا اللہ کی زیرِ صدارت اہم اجلاس میں مرحلہ وار الیکشن کے روڈ میپ کے ساتھ ساتھ تنظیم میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی زیرِ صدارت صوبائی تنظیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی عہدیداروں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں خالی تنظیمی عہدے جلد از جلد پُر کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن ایک بار پھر ملتوی، وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی
صوبے کی تمام ڈویژن، اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر تنظیم کو متحرک کرنے، عوامی رابطوں کو تیز کرنے اور بھرپور مہم چلانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
مخلص کارکنوں کی ترجیح اور الیکشن روڈ میپ
اجلاس کی اہم ترین پیش رفت یہ تھی کہ تمام ڈویژنل عہدیداروں کو واضح پیغام دیا گیا کہ بلدیاتی الیکشن میں مشکل وقت کے ساتھیوں اور پارٹی سے مخلص دیرینہ کارکنوں کو ہر صورت ترجیح دی جائے۔
عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابات کی تیاریوں کا تفصیلی روڈ میپ اور حکمت عملی طے کر کے جلد از جلد مرکزی قیادت کو بھجوائیں۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہوں گے۔
پارٹی عہدوں میں تبدیلیاں اور نئے صوبوں پر بحث
اجلاس کے دوران تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ چوہدری جاوید بوٹا اور محسن رانجھا کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا نائب صدر مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ سمیرا ملک اور حافظ عثمان عباسی کو ان کے عہدوں سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن نے خبیر پختونخوا میں ضمنی بلدیاتی الیکشن کے لیے مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کردیا
علاوہ ازیں اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کی جانب سے یہ اصولی مؤقف اپنایا گیا کہ اس معاملے پر حتمی بحث اور فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہونا چاہیے۔
آزاد کشمیر الیکشن پر مبارکباد اور تعزیتی قراردادیں
اس اہم بیٹھک میں آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں پارٹی کی شاندار جیت پر قیادت اور کارکنوں کو مبارکباد پیش کی گئی اور غیور عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پر غیر متزلزل اعتماد کے اظہار پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا۔
دریں اثنا پارٹی کے سینیئر رہنماؤں محمود بشیر ورک، ندیم کامران اور ملک اقبال چنڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی طویل عرصے سے ایک اہم انتظامی مسئلہ رہی ہے، جس کے باعث گراس روٹ لیول پر عوامی مسائل کے حل میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بلدیاتی الیکشن کے نتائج مکمل، پیپلز پارٹی سب سے آگے، جماعت اسلامی کا دوسرا نمبر
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تنظیم سازی اور انتخابی روڈ میپ کی تیاری اس بات کا اشارہ ہے کہ صوبائی حکومت نچلی سطح پر اقتدار کی منتقلی کے لیے سنجیدہ ہے۔
آزاد کشمیر میں ملنے والی کامیابی کے بعد اب پارٹی قیادت پنجاب کے بلدیاتی محاذ پر اپنا سیاسی تسلط برقرار رکھنے کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔














