بچپن اور لڑکپن کے اسکول کے دن گزرے کئی دہائیاں بیت جائیں لیکن کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو ذہن سے محو نہیں ہوتیں۔ خاص طور پر یہ کہ اسکول میں کون مقبول تھا، کون سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتا تھا اور کون سماجی حلقے سے باہر رہ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اسکول سے نکل آئے لیکن اسکول ہم سے نہیں نکلتا، سائنس کیا کہتی ہے؟
ماہرین نفسیات کے مطابق نوعمری میں مقبولیت اور سماجی حیثیت سے متعلق تجربات صرف اُس وقت تک محدود نہیں رہتے بلکہ کئی افراد کے لیے یہ یادیں بالغ زندگی میں بھی ان کے سماجی رویوں، تعلقات اور خود کو دنیا میں دیکھنے کے انداز پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔
اسکول والی ’مقبولیت‘ اتنی اہم کیوں ہوتی ہے؟
نوعمری وہ دور ہے جب دوستوں اور ہم عمر افراد کی رائے اچانک بہت اہم ہو جاتی ہے۔ اس عمر میں یہ احساس گہرا ہونے لگتا ہے کہ کون مقبول ہے، کون دوسروں پر اثر رکھتا ہے اور کون سماجی حلقے میں جگہ بنانے میں کامیاب ہے۔
ماہر نفسیات مچ پرنسٹائن کے مطابق انسان کے ذہن میں سماجی دنیا کو سمجھنے کا ایک انداز نوعمری کے دوران تشکیل پاتا ہے اور بعد کی زندگی میں بھی ہم بعض اوقات نئے لوگوں اور حالات کو انہی پرانی یادوں کے تناظر میں دیکھنے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیے: دوست زیادہ ہوں تو اچھا، کم ہوں تو اور اچھا، جانیے کیسے؟
اسی لیے بہت سے بڑی عمر کے افراد آج بھی اسکول کے زمانے کے سب سے مقبول طالب علم کا نام فوراً یاد کر لیتے ہیں خواہ انہیں اپنے کئی اساتذہ یا ہم جماعتوں کے نام یاد نہ ہوں۔
مقبول ہونا اور پسند کیا جانا ایک جیسی بات نہیں
تحقیق میں مقبولیت کی ایک دلچسپ تقسیم سامنے آتی ہے۔ ایک قسم وہ ہے جس میں انسان دوسروں کو اچھا لگتا ہے، لوگوں کو اپنے ساتھ محفوظ اور قابل قدر محسوس کراتا ہے اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
دوسری قسم سماجی حیثیت یا ’اسٹیٹس‘ کی ہے جس میں کسی شخص کو طاقتور، بااثر، نمایاں یا ’کُول‘ سمجھا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسا شخص ضروری نہیں کہ دوسروں کو پسند بھی ہو۔
پرنسٹائن کے مطابق دونوں اقسام کے نتائج بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پسند کیے جانے کی صلاحیت کے مثبت اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں جبکہ صرف سماجی حیثیت حاصل کرنے پر توجہ دینے کے نتائج ہمیشہ مثبت نہیں ہوتے۔
اسکول میں بننے والے ’گروپ‘ بھی شخصیت پر اثر ڈالتے ہیں
اسکول میں بچے اور نوجوان اکثر مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ کچھ سب سے زیادہ مقبول سمجھے جاتے ہیں، کچھ خاموش رہتے ہیں، کچھ دوسروں کی جانب سے مسترد کیے جاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیک وقت کچھ لوگوں کو پسند اور کچھ کو ناپسند ہوتے ہیں۔
ماہرین نے بچوں کی سماجی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایسے ہی مختلف زمروں کی نشاندہی کی ہے۔ ایک معروف تحقیق میں بچوں سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ہم جماعتوں میں کن ساتھیوں کو سب سے زیادہ اور کن کو سب سے کم پسند کرتے ہیں جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ اسکول میں سماجی حیثیت دراصل کتنی پیچیدہ ہوتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض بچوں کی سماجی شناخت ایک نئے اسکول یا نئے گروپ میں جانے کے باوجود بڑی حد تک برقرار رہ سکتی ہے۔ کچھ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ابتدائی اسکول میں بننے والی سماجی شناخت کا ایک حصہ بعد کے برسوں میں بھی برقرار رہا۔
’کُول‘ بننے کی قیمت بھی ہو سکتی ہے
نوعمری میں بعض اوقات وہ رویے بھی سماجی حیثیت بڑھا دیتے ہیں جو بالغ زندگی میں فائدہ مند نہیں ہوتے۔ زیادہ توجہ حاصل کرنا، دوسروں پر غلبہ رکھنا یا خود کو حد سے زیادہ نمایاں کرنا کسی نوجوان کو وقتی طور پر مقبول بنا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: مرنے کے بعد یاد رکھے جانے کا خیال کیوں اہم ہے، اس کے اضافی فوائد کیا ہیں؟
لیکن طویل مدتی تحقیق میں ایسے نوجوانوں کے بارے میں کچھ مختلف نتائج سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی آف ورجینیا کی ایک تحقیق میں 184 نوجوانوں کو نوعمری سے ابتدائی جوانی تک فالو کیا گیا اور ایسے نوجوانوں میں بعد کی زندگی میں تعلقات سے متعلق مشکلات اور بعض خطرناک رویوں کا زیادہ امکان دیکھا گیا جو کم عمری میں سماجی حیثیت کے حصول کے لیے حد سے زیادہ کوشاں تھے۔
البتہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسکول میں مقبول رہنے والا ہر شخص مستقبل میں مشکلات کا شکار ہوتا ہے۔ اصل فرق اس بات میں ہے کہ مقبولیت پسند کیے جانے، دوسروں کو اہمیت دینے اور مثبت تعلقات سے آئی تھی یا صرف طاقت، غلبے اور سماجی حیثیت سے۔
مسترد کیے جانے کا اثر بھی دیرپا ہو سکتا ہے
اس کے برعکس اسکول میں مسلسل نظرانداز کیے جانے یا مسترد کیے جانے کا تجربہ بھی انسان کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑ سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق بعض افراد میں بار بار مسترد کیے جانے کا تجربہ انہیں مستقبل کے سماجی حالات میں بھی پہلے ہی سے یہ توقع رکھنے پر مجبور کر سکتا ہے کہ دوسرے لوگ انہیں پسند نہیں کریں گے۔ نتیجتاً وہ نئے تعلقات بنانے سے گریز کر سکتے ہیں، کم بات کر سکتے ہیں یا دوسروں سے فاصلہ اختیار کر سکتے ہیں جس سے وہی منفی تجربہ دوبارہ پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
تاہم یہ اثر مستقل نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق انسان اپنے پرانے سماجی تصورات اور رویوں کو وقت کے ساتھ تبدیل کر سکتا ہے۔
اسکول ختم ہوجاتا ہے لیکن ’اسکول کا ذہن‘ ساتھ رہ سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمری میں انسان تقریباً روزانہ ایک ہی گروپ کے لوگوں کے درمیان رہتا ہے۔ کئی سال تک ایک ہی ماحول میں رہنے کے باعث اس عمر کے سماجی تجربات غیر معمولی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیا بدظنی انسان کو دھوکہ کھانے سے بچالیتی ہے؟
اسی لیے بالغ زندگی میں بھی دفتر، دوستوں کے حلقے یا دوسرے سماجی ماحول میں بعض افراد غیر شعوری طور پر پرانے اسکول کے تجربات سے ملتے جلتے رویے اختیار کر لیتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ماہر نفسیات لوسی فولکس کے مطابق طاقت اور سماجی غلبے کا رجحان انسانی معاشرے میں عام ہے لیکن نوعمری میں اس کی شدت خاص طور پر نمایاں ہوتی ہے۔
لیکن ماضی آپ کی قسمت نہیں
ماہرین کی اس تحقیق کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسکول میں کسی شخص کی حیثیت اس کی پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتی۔
اسکول میں ’غیر مقبول‘ رہنے والا نوجوان بعد میں مضبوط تعلقات، کامیاب پیشہ ورانہ زندگی اور بہتر سماجی روابط قائم کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ نوعمری میں صرف ایک یا 2 اچھے دوست ہونا بھی مستقبل کے تعلقات کے لیے مثبت اثر رکھ سکتا ہے۔
اسی طرح جو نوجوان کبھی اسکول میں انتہائی بااثر یا ’کول‘ سمجھا جاتا تھا ضروری نہیں کہ بالغ زندگی میں بھی وہی سماجی حیثیت برقرار رکھے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے پرانے تجربات کو بدلے بغیر نئے حالات پر لاگو کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھنا شروع کردے کہ ہر نئی محفل میں لوگ اسے مسترد کریں گے تو وہ غیر شعوری طور پر ایسے رویے اختیار کرسکتا ہے جو دوسروں سے دوری کا سبب بن جائیں۔
اس کے برعکس اپنے پرانے تجربات کو نئے انداز سے دیکھنا اور ہر نئے سماجی تعلق کو ماضی سے الگ سمجھنا اس ’اسکرپٹ‘ کو تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا تھوڑی سی خودغرضی تعلقات کو بہتر بنا سکتی ہے؟ ماہرین کی دلچسپ رائے
شاید اسی لیے اسکول کی وہ پرانی یادیں جو ہمیں کبھی اپنی پوری دنیا معلوم ہوتی تھیں آج بھی ذہن میں موجود ہیں لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہماری پوری زندگی کا فیصلہ بھی کرتی رہیں۔














