وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں اعتماد اور ساکھ بحال کرنا ہوگی، 25 سے 26 کروڑ آبادی والے ملک میں ٹیکس نظام کو چند ملین افراد کی آبادی والے ممالک کی طرز پر نہیں چلایا جاسکتا۔
لندن میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ڈیجیٹل روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اس وقت ٹیکس نظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور اصلاحات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 برس کے دوران ٹیکس وصولیوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس اضافے کی وجہ نئے ٹیکس عائد کرنا نہیں بلکہ ٹیکس وصولی کے نظام میں نفاذ اور لیکیجز کو روکنے کے اقدامات ہیں۔
Finance Minister Muhammad Aurangzeb says Pakistan is open for business with renewed interest from international investors#News #RadioPakistan https://t.co/OB6r3rFKI4 pic.twitter.com/oaQ6aOCfaO
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 17, 2026
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس نظام میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ اور ڈیجیٹل وائسنگ سمیت جدید نظام متعارف کرا رہی ہے، جس سے ٹیکس وصولیوں میں موجود لیکیجز کو روکنے میں مدد مل رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات جاری ہیں، جبکہ قومی ایئرلائن کی نجکاری کے عمل میں پیشرفت ہوئی ہے۔ پہلی مرتبہ 2 بڑے پاکستانی کاروباری گروپس نے قومی ایئرلائن کے لیے بولیاں جمع کرائی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری و نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
انہوں نے بتایا کہ ایک بولی تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی تھی، جبکہ دوسری بولی تقریباً 600 ملین ڈالر کے قریب رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ معمولی رقم نہیں اور نجکاری کے عمل سے معیشت میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ سمیت مختلف شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہی ہے، جبکہ مالیاتی شعبے اور پبلک فنانس مینجمنٹ میں اصلاحات پر بھی کام جاری ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے تقریباً 4 سال بعد یورو بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کی ہے، تاہم عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کا مقصد صرف بیرونی فنانسنگ میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ بیرونی واجبات کو بہتر انداز میں منظم کرنا بھی ہے۔













