31 بچوں سمیت 165 تارکین وطن کو کشتی میں برطانیہ لانے والا نوجوان جیل پہنچ گیا

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلش چینل کے راستے 165 تارکین وطن کو فرانس سے برطانیہ لے جانے والی انتہائی گنجائش سے زیادہ بھری کشتی چلانے والے 19 سالہ نوجوان کو 2 سال 3 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔

بی بی سی اور برطانوی میڈیا کے مطابق جنوبی سوڈان سے تعلق رکھنے والے چان ماتھوک اتاک نے 23 جولائی کو 165 افراد کو لے کر انگلش چینل عبور کرنے والی کشتی چلانے کا اعتراف کیا تھا۔ اسے کینٹربری کراؤن کورٹ نے سمندری سفر کے دوران دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے جرم میں سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیں:اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

پراسیکیوٹر جیمز ہیریسن نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً 14 میٹر لمبی ربڑ کی کشتی میں 165 افراد سوار تھے، جن میں 31 بچے بھی شامل تھے۔ سب سے کم عمر بچے کی عمر 14 سال تھی۔ کشتی کی لمبائی تقریباً ایک بس کے برابر تھی اور سفر کے دوران اس کا ایک انجن کام کرنا چھوڑ گیا جبکہ کشتی بھی ہوا خارج کرنے لگی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اتاک تقریباً 90 منٹ تک کشتی چلاتا ہوا فضائی نگرانی کی ویڈیو میں نظر آیا، بعد ازاں اس نے اپنی جیکٹ اتار کر دیگر مسافروں کے درمیان بیٹھنے کی کوشش کی تاکہ کشتی چلانے والے کے طور پر شناخت سے بچ سکے۔ اس نے اگست میں اپنے خلاف عائد جرم کا اعتراف کیا تھا۔

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق کشتی میں شدید گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے اور سمندر میں سفر کے دوران بنیادی حفاظتی انتظامات بھی ناکافی تھے۔ کشتی کو بعد ازاں برطانوی حکام نے روک لیا۔

جج سارہ کاؤنسل نے قرار دیا کہ جرم کی سنگینی کے باعث فوری قید کی سزا ضروری ہے۔ عدالت نے اتاک کو یہ بھی بتایا کہ غیر ملکی شہری ہونے کے باعث سزا مکمل ہونے کے بعد اسے اصولی طور پر خودکار ملک بدری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp