سپریم کورٹ نے پشاور سے گرفتار ڈائریکٹر امیگریشن فرخ جمال صدیقی اور ان کے ڈرائیور محمد حکیم کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، فرخ جمال صدیقی پر مہاجرین سے رشوت لینے کا الزام تھا۔
سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے عدالت کو بتایا کہ فرخ جمال صدیقی سے موقع پر 6 لاکھ روپے برآمد ہوئے، جبکہ ملزم کی نشاندہی پر اس کے گھر سے ایک کروڑ روپے نقد بھی برآمد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی آر میں تاخیر، سپریم کورٹ سندھ پولیس پر سخت برہم، آئندہ توہینِ عدالت کی وارننگ
ان کے مطابق ملزم کے قبضے سے ملنے والی گاڑیاں اور دیگر اشیا بھی اس کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا ملزم سے برآمد ہونے والی رقم نشان زدہ تھی، انہوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم کے خلاف الزام لگانے والا بھی کوئی سامنے نہیں ہے اور سوال کیا کہ معلوم کیسے ہوگا کہ برآمد ہونے والی رقم کرپشن کی رقم ہے۔
جسٹس عقیل عباسی نے مزید ریمارکس دیے کہ آپ ملزم کے خلاف عدالت میں کیس ثابت نہیں کر سکیں گے۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس، سپریم کورٹ نے سیشن عدالت کو مزید کارروائی سے روک دیا
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارا ملک کرپشن کے کینسر میں مبتلا تو ہے، عدالتی استفسار پر وکیل نے جواب دیا کہ رقم ملزم کی نہیں تھی۔
عدالت نے ڈائریکٹر امیگریشن پشاور کے ڈرائیور محمد حکیم کی بھی ضمانت منظور کرلی۔
ڈرائیور کے وکیل ارشد حسین یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کا جرم سے کوئی تعلق نہیں اور اسے خوامخواہ گرفتار کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس، سپریم کورٹ نے سیشن عدالت کو مزید کارروائی سے روک دیا
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ڈرائیور کوئی فیصلہ تو نہیں کرسکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈرائیور کی جرات ہے کہ اپنے ڈائریکٹر کو انکار کرسکے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈائریکٹر اور ڈرائیور کو ایک ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کے مطابق ڈرائیور رشوت کی رقم وصول کرکے اس کا ایک حصہ اپنے پاس رکھتا تھا، جبکہ باقی رقم ڈائریکٹر کو دی جاتی تھی۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والی بیوہ کے حق میں اہم فیصلہ
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ ڈرائیور کے جانب سے رقم وصول کرنے اور ڈائریکٹر جنرل کو 30 فیصد حصہ دینے کا اعترافی بیان بھی موجود ہے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد ڈائریکٹر امیگریشن فرخ جمال صدیقی اور ان کے ڈرائیور محمد حکیم کی ضمانت منظور کرلی۔














