بچوں کو فون سے دور رکھنے کی فکر، مگر بڑے خود کتنے موبائل کے عادی ہیں؟

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موبائل فون اور سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کا ضرورت سے زیادہ استعمال عموماً نوجوانوں سے جوڑا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑی عمر کے افراد بھی اس عادت سے متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موبائل اسپیکر پر اونچی آواز میں ویڈیوز اور کالز سننا، کیا یہ عوامی مقامات کا نیا معمول بنتا جا رہا ہے؟

برطانیہ کے علاقے ویسٹ سسیکس سے تعلق رکھنے والی 62 سالہ ٹریسی کہتی ہیں کہ انہیں موبائل فون نیچے رکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ نشے کی طرح ہے میں اپنے فون پر بہت زیادہ وقت گزارتی ہوں۔

ٹریسی کے مطابق وہ کئی مرتبہ غیر محسوس انداز میں اپنا فون اٹھا لیتی ہیں اور پھر سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر بے مقصد مواد دیکھتے دیکھتے انہیں احساس ہی نہیں ہوتا کہ کتنا وقت گزر چکا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ اکثر وہ صرف چند لمحوں کے لیے فون اٹھاتی ہیں لیکن پھر مسلسل مواد دیکھنے میں وقت گزر جاتا ہے۔

سنہ 2026 میں ہونے والے ایک ’یو گوو‘ سروے کے مطابق 55 سال سے زیادہ عمر کے نصف سے زائد بالغ افراد ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔

ٹریسی کے بقول یہ ایک وبا بن چکی ہے ہم اسکرولنگ کے عادی ہوچکے ہیں۔

لاک ڈاؤن میں شروع ہونے والی عادت

ٹریسی نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران لاک ڈاؤن میں انہوں نے وقت گزارنے اور خود کو مصروف رکھنے کے لیے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کا استعمال شروع کیا تھا۔

مزید پڑھیے: اسمارٹ چشمے، جدید سہولت یا خفیہ نگرانی کا نیا ذریعہ؟

بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ اس کا استعمال ان کی زندگی میں ضرورت سے زیادہ جگہ بنا چکا ہے اس لیے انہوں نے اپنا استعمال محدود کرنے کی کوشش کی اور اپنے فون سے کچھ سماجی رابطوں کی ایپلی کیشنز بھی حذف کردیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انہیں نہیں لگتا کہ ہر وقت سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم استعمال کرنا صحت مند عادت ہے۔

ٹریسی کے مطابق سماجی رابطے آپ کے ذہن کو اتنے مواد سے بھر دیتے ہیں کہ اہم اور ضروری چیزوں کے لیے ذہنی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

ان کا کہنا ہے کہ والدین یا دادا دادی اور نانا نانی اگر ہر وقت فون میں مصروف رہیں تو وہ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ موجود قیمتی لمحات بھی کھو دیتے ہیں۔

صرف نوجوانوں کا مسئلہ نہیں

برطانوی حکومت کی جانب سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی کی تجاویز کے تناظر میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹریسی نے کہا کہ بڑی عمر کے افراد کو بھی اپنے رویے پر توجہ دینی چاہیے۔

ان کے مطابق صرف بچوں کے موبائل استعمال پر توجہ دینا کافی نہیں کیونکہ بڑے افراد بھی بچوں کے لیے مثال بنتے ہیں۔

مزید پڑھیں: دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

وہ کہتی ہیں کہ والدین اور دادا دادی، نانا نانی کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے سامنے موبائل فون کے استعمال کا کیسا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رویے رویوں کو جنم دیتے ہیں۔

پہلے خدشہ تھا کہ بڑی عمر کے لوگ ٹیکنالوجی استعمال کر پائیں گے یا نہیں

برائٹن یونیورسٹی میں سائبر نفسیات کے استاد اور محقق ڈیوڈ ہارلے کے مطابق ابتدا میں ماہرین کی توجہ اس بات پر تھی کہ بڑی عمر کے افراد سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال کر بھی پائیں گے یا نہیں۔

اب صورتحال بدل چکی ہے اور توجہ اس بات پر ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال بڑی عمر کے افراد پر کس طرح اثر انداز ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق سماجی رابطوں کے ابتدائی دور میں لوگ خود مواد تیار کرنے اور دوسروں کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کرنے پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔

لیکن وقت کے ساتھ یہ رجحان کم ہوا ہے اور اب سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر بغیر کسی مقصد کے مواد دیکھنے اور الگورتھم کی جانب سے مسلسل پیش کیے جانے والے مواد کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

یہ مواد اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ صارف کی توجہ زیادہ سے زیادہ دیر تک برقرار رہے۔

ہارلے کے مطابق یہی صورتحال بعض افراد میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کے استعمال کی عادت اور دیگر مسائل پیدا کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر عمر کے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم بڑی عمر کے لوگوں پر اس کے اثرات کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

لیکن سماجی رابطے بڑی عمر کے افراد کے لیے فائدہ مند بھی ہیں

ماہرین کے مطابق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کو صرف منفی انداز میں دیکھنا بھی درست نہیں۔

سرے یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈیجیٹل امور کی ماہر بریجٹ اسٹینگل کے مطابق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم بڑی عمر کے افراد میں تنہائی کم کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خواتین پر گھر کے ذہنی بوجھ کی ذمہ داری زیادہ کیوں، اسے کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو ایسے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ نقل و حرکت یا سفر میں مشکلات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

خاص طور پر ان افراد کے لیے جن کے بچے یا خاندان کے دیگر افراد دنیا کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم انہیں ایک دوسرے سے جڑے رہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

اسٹینگل کے مطابق انٹرنیٹ سے پہلے شاید ایسے بہت سے حقیقی روابط برقرار رکھنا ممکن نہ ہوتا جو اب آسانی سے قائم رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ مناسب انداز میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کا استعمال بڑھاپے میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے خطرے کو کم کرنے میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔

’میں سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم سے محبت کرتی ہوں‘

ویسٹ سسیکس کے علاقے ورتھنگ سے تعلق رکھنے والی 61 سالہ اداکارہ کیری ہیڈلی چینی بھی سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کے استعمال کو مکمل طور پر منفی نہیں سمجھتیں۔

ان کے مطابق اگر سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم نہ ہوتے تو وہ اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں سے رابطہ کھو دیتیں۔

وہ کہتی ہیں کہ لوگوں سے دوبارہ جڑنے کا موقع ملنا ان کے لیے ’انتہائی خوبصورت‘ تجربہ رہا ہے۔

اداکارہ کے مطابق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم نے انہیں اداکاری سے وابستہ مختلف گروپس کا حصہ بننے، نئے لوگوں سے تعلق قائم کرنے اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کا موقع بھی دیا۔

تاہم وہ اس کے منفی پہلو کو بھی تسلیم کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم پر گھنٹوں ضائع ہوجاتے ہیں جبکہ اس دوران وہ کام کیے جانے چاہییں جو زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔

انہوں نے دلچسپ انداز میں کہا کہ گھر کی صفائی اس بات سے نہیں ہوجاتی کہ آپ یہ دیکھتے رہیں کہ اکاؤنٹس کے شعبے میں کام کرنے والی جینس کیا کر رہی ہے۔

کیری کے مطابق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کے مسلسل استعمال سے ان کی توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت بھی کم ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: فون بوتھ سے اسمارٹ فون تک کا سفر: تیزی سے بدلتے طرز زندگی پر ایک خاتون کے دلچسپ ریمارکس

ان کا کہنا ہے کہ کئی سال پہلے وہ کسی چیز پر زیادہ دیر توجہ مرکوز کرسکتی تھیں لیکن اب ان کی توجہ کا دورانیہ تقریباً 10 سیکنڈ رہ گیا ہے۔

اس کے باوجود جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کا استعمال کم کرنا چاہیں گی تو ان کا جواب تھا کہ ’نہیں، مجھے یہ بہت پسند ہے‘۔

ان کے مطابق یہ لوگوں تک پہنچنے، کسی معاملے میں مشورہ حاصل کرنے اور ضرورت پڑنے پر مدد تلاش کرنے کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔

اصل مسئلہ استعمال کا انداز ہے

ماہرین کے مطابق سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم کا استعمال بذاتِ خود مسئلہ نہیں بلکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے کس مقصد اور کس انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔

بریجٹ اسٹینگل کے مطابق بے مقصد مسلسل اسکرولنگ اور کسی خاص مقصد کے تحت سماجی رابطوں کا استعمال ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایسا استعمال ہے جس میں انسان گھنٹوں بغیر کسی مقصد کے ایک کے بعد دوسرا مواد دیکھتا رہتا ہے، جبکہ دوسری جانب کوئی شخص کسی مفید معلومات، دوستوں یا خاندان سے رابطے یا کسی مخصوص سرگرمی کے لیے سماجی رابطوں کا استعمال کرسکتا ہے۔

ان کے مطابق مسلسل اور بے مقصد اسکرولنگ دماغ پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے لیکن بامقصد اور مفید استعمال کے کئی فوائد بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ بڑی عمر کے افراد میں بھی صورتحال یکساں نہیں۔ کچھ لوگ آن لائن دنیا اور ٹیکنالوجی کو بہت اچھی طرح استعمال کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد ایسے ہیں جو اس کے منفی اثرات کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دو دھاری تلوار ہے۔

مزید پڑھیے: ٹیکنالوجی کمپنیاں آپ سے اسکرین کیوں چھیننا چاہتی ہیں، کیا اسمارٹ فون بھی ختم ہوجائیں گے؟

سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایک طرف بڑی عمر کے افراد کو تنہائی سے نکال کر خاندان اور دوستوں سے جوڑ سکتے ہیں اور نئی سرگرمیوں اور معلومات تک رسائی دے سکتے ہیں لیکن دوسری طرف اگر استعمال بے مقصد اسکرولنگ میں تبدیل ہوجائے تو یہی عادت وقت کے ضیاع، توجہ میں کمی اور روزمرہ زندگی کے اہم لمحات سے دوری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp