ٹیکنالوجی نے گزشتہ چند برسوں میں انسانی زندگی، رابطوں اور روزمرہ عادات کو حیران کن حد تک بدل دیا ہے۔ ایک 20 سالہ خاتون کی سوشل میڈیا پوسٹ نے اس تیز رفتار تبدیلی کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح صرف ایک ہی نسل کے دوران دنیا کا طرز زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سام سنگ کا گلیکسی زیڈ فولڈ 8 اسمارٹ فونز کی دنیا بدل دے گا؟ حیران کن لیکس سامنے آگئیں
بھارتی صارف مہک سلوجا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی یادیں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ صرف 20 سال کی ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے دوران ٹیکنالوجی 10 گنا زیادہ رفتار سے تبدیل ہوگئی ہے۔
فون بوتھ سے اسمارٹ فون تک کا سفر
مہک نے بتایا کہ ان کا بچپن اس دور میں گزرا جب گھروں میں موبائل فون عام نہیں تھے اور لوگ فون کرنے کے لیے مخصوص فون بوتھ استعمال کرتے تھے۔
انہوں نے یاد کیا کہ ان کے گھر میں ایک چھوٹی سی دکان تھی جہاں لوگ صرف فون کال کرنے کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس وقت موبائل فون ہر شخص کے پاس نہیں ہوتا تھا بلکہ بعد میں ان کے گھر میں سب کے استعمال کے لیے صرف ایک کی پیڈ والا فون آیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد ان کے خاندان نے اپنا پہلا اسمارٹ فون خریدا جو ان کے لیے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔
مزید پڑھیے: ٹیکنالوجی کمپنیاں آپ سے اسکرین کیوں چھیننا چاہتی ہیں، کیا اسمارٹ فون بھی ختم ہوجائیں گے؟
مہک نے پرانے موبائل انٹرنیٹ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت تھا جب 50 ایم بی ڈیٹا پیکج بھی بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آج بھی یاد ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ صرف ایک گیم ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے 50 ایم بی ڈیٹا خریدا تھا۔
وبائی مرض کے بعد بدلتی عادات
مہک نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وبا نے بھی ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید بڑھا دیا۔
I'm just 20, but sometimes it feels like technology evolved at 10x speed.
I still remember we had an STD booth in our house. We had a small shop, and people used to come there just to make phone calls.
Then there was one keypad phone for the whole family.
Then our first…
— Mehak Saluja (@salujamehak5) July 19, 2026
ان کے مطابق انہیں اسکول کے زمانے میں پہلا فون ملا تھا اس وقت ان کا روزانہ اسکرین ٹائم تقریباً 3 سے 4 گھنٹے تک محدود تھا۔
تاہم اب وہ کالج میں ہیں اور روزانہ 10 سے 12 گھنٹے اسکرین استعمال کرنا بھی غیرمعمولی محسوس نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: کیا اسمارٹ فون ایپس کی جگہ اے آئی ایجنٹس لے لیں گے؟ ٹیک دنیا کا حیران کن دعویٰ
انہوں نے بتایا کہ اب سوشل میڈیا روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے اور وہ کلاس سے پہلے، کلاسز کے درمیان اور کلاس ختم ہونے کے بعد بھی انسٹاگرام استعمال کرتی ہیں۔
ایک نسل میں آنے والی بڑی تبدیلی
ماہرین کے مطابق مہک کی یادیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسانی رابطوں کے طریقے کس حد تک بدل دیے ہیں۔
ایک وقت تھا جب فون کال کے لیے لوگوں کو گھر سے باہر جانا پڑتا تھا جبکہ آج اسمارٹ فون کے ذریعے دنیا بھر سے فوری رابطہ، تفریح، تعلیم اور کام چند لمحوں میں ممکن ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: افغان طالبان رجیم نے سرکاری ملازمین پر اسمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی
یہ تبدیلی خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے زیادہ نمایاں ہے، کیونکہ انہوں نے ایک ایسی دنیا بھی دیکھی ہے جہاں موبائل فون محدود تھے اور ایک ایسی دنیا بھی جہاں تقریباً ہر کام ایک ہی ڈیوائس سے کیا جا سکتا ہے۔













