پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ سے محض ایک ہفتہ قبل پنجاب میں حکومتی کارروائیوں کا دائرہ کارکنوں سے بڑھ کر عمران خان کے خاندان تک پہنچ گیا ہے، تاہم صوبائی اسمبلی کے ارکان تاحال اس کارروائی سے محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔
لاہور میں ڈپٹی کمشنر کے احکامات پر عمران خان کی بہن علیمہ خان کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (ایم پی او) کی دفعہ 3 کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کر کے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
اسی دوران راولپنڈی، ساہیوال، سیالکوٹ، وزیرآباد اور دیگر اضلاع میں سیکڑوں کارکنوں اور ضلعی عہدیداروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے، لیکن اراکین پنجاب اسمبلی کی نظر بندی کے کوئی احکامات تاحال جاری نہیں ہوئے۔
اتوار کے روز علیمہ خان کو اپر مال میں واقع رہائش گاہ سے جم خانہ جاتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کے حکم نامے کے تحت علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد امیر کو 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں دے دیا گیا۔
حکم نامے میں 9 مئی کے احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کارکنوں کو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسانے کا حوالہ دیا گیا۔ اس کے اگلے روز پولیس کی سفارش پر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کے خلاف بھی الگ الگ 30 روزہ نظربندی کے احکامات جاری کردیے گئے۔
ذرائع کے مطابق عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو علیمہ خان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا، جس کے بعد انہیں رات تقریباً 2 بجے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔ علیمہ خان کے بیٹوں شہریز خان اور شیر شاہ کو مختصر حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ یوں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تینوں بہنیں ایک ہی جیل میں نظر بند ہوگئی ہیں۔
اس پورے منظر نامے میں پنجاب اسمبلی کے اراکین کی غیر موجودگی نمایاں ہے۔ ابھی تک پی ٹی آئی کے اراکن پنجاب اسمبلی کہیں بھی نظر نہیں آئے۔
قومی اسمبلی کے چند اراکین اور ایک سینیٹر کی گرفتاری کی اطلاعات اسلام آباد سے سامنے آئی ہیں، جہاں پارلیمنٹ لاجز اور اسمبلی عمارت کے باہر کارروائی ہوئی ہے۔
احسن جمال خان، میاں غوث، ثنااللہ خان مستی خیل، داور خان کنڈی اور سینیٹر سیف اللہ نیازی کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں، تاہم پنجاب اسمبلی کے اراکین اس مخصوص لہر میں ایم پی او کے تحت نظر بند نہیں کیے گئے۔
2 پی ٹی آئی ایم پی ایز چوہدری اعجاز شفیع اور شیخ امتیاز محمود نے لاہور ہائیکورٹ میں ایم پی او کی دفعہ 3 اور 16 کو آئین کے منافی قرار دینے کی درخواست دائر کی ہے، جس کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ ہے۔
اپوزیشن لیڈر معین الدین ریاض قریشی بھی اس قانونی محاذ پر موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی اراکین ابھی میدان سے غائب ہیں اور وہ عدالتی راستہ استعمال کررہے ہیں۔
پنجاب اسمبلی کے اراکین پہلے سے ہی 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سمیت صوبائی اراکین نے مؤقف اختیار کیاکہ لانگ مارچ کی تیاری ناکافی ہے اس لیے 27 ستمبر کا منصوبہ ملتوی کیا جائے۔
اراکین کا کہنا تھا کہ تاریخ کے اعلان سے پہلے پنجاب کے نمائندوں سے مشاورت نہیں کی گئی اور پشاور کے اجلاس میں بھی ان کا مؤقف نہیں سنا گیا۔
پی ٹی آئی پنجاب کےذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ پارلیمنٹیرینز نے مشاورت نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، شمالی پنجاب کے بعض اراکین اسٹریٹ موومنٹ پر زیادہ سخت تحفظات رکھتے تھے، جبکہ جنوبی پنجاب کے کچھ اراکین وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پنجاب بلانے کے حق میں تھے، لیکن 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف تھے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے ارکان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی کمی کے باعث لوگ اپنی مدد آپ کے تحت احتجاج میں شرکت نہیں کرسکتے۔ مہنگائی کے موجودہ حالات میں پیٹرول اور کھانے پینے کے اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنا بھی مشکل ہے۔
ان کے مطابق پارٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ ماضی میں پی ٹی آئی کے ارکان احتجاج میں شرکت کے لیے اسلام آباد جاتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ صورتحال مشکل دکھائی دے رہی ہے اور احتجاج کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی بھی ترتیب نہیں دی گئی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک رکن صوبائی اسمبلی نے بتایا کہ احتجاج سے قبل بعض ارکان اسمبلی کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی رکن اسمبلی اپنے حلقے سے کارکنوں کی قیادت نہیں کرے گا تو احتجاج کیسے کامیاب ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے احتجاج کے خلاف سخت پالیسی کے باعث بھی لوگ گھروں سے نکلنے سے خوفزدہ ہیں۔
پارٹی کے منصوبے کے مطابق پنجاب کے ارکان اسمبلی کو احتجاج کے لیے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ لاہور، سیالکوٹ، اوکاڑہ، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ کے ارکان کو لاہور میں مال روڈ پر احتجاج کرنا تھا، جبکہ فیصل آباد میں گھنٹہ گھر چوک پر احتجاج کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس میں فیصل آباد، ساہیوال، جھنگ اور سرگودھا ڈویژن کے ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے شرکت کرنا تھی۔
مزید پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد نقصان دیتا ہے، 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2 سال پیچھے دھکیل دے گا، رانا ثنااللہ
منصوبے کے مطابق جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو اسلام آباد پہنچنا تھا۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بیشتر ارکان اسمبلی اس احتجاج میں شرکت کے خواہشمند نہیں ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے اختیار کی گئی سخت پالیسی اور اس کے نتیجے میں کارکنوں میں پایا جانے والا خوف ہے۔













