وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج کی اصطلاح پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ڈکشنری میں موجود نہیں، عمران خان کی بہنوں کو مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر نظر بند کیا گیا۔ مذاکرات کی بات کرنے والے بتائیں پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے، حکومت کس سے بات کرے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پرامن ہونے کی ضمانت کون دے گا، جو لوگ اسلحے، ڈنڈوں اور غلیلوں سے لیس ہوکر آتے ہیں، وہ پرامن کیسے ہوسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ منصوبے میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے آج تک پی ٹی آئی کو پرامن احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں۔ آج خیبرپختونخوا میں ٹوٹی سڑکوں کے سوا کچھ نہیں ہے، اس لیے سیاست ہوتی رہے گی، لیکن خدارا اپنے صوبے کو سنبھالیں۔
’اپنے صوبے میں احتجاج کریں اور پشاور بند کریں‘
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت کو چاہیے کہ امن کے قیام تک ہنگو اور کوہاٹ سے باہر نہ نکلے۔ ان کے مطابق آج کوہاٹ میں تاجروں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو احتجاج سے روکا جائے، کیونکہ احتجاج کی وجہ سے تمام کاروبار رک جاتا ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ یہ پرامن لوگ نہیں ہیں، اور یہ پرامن احتجاج نہیں کرتے۔ ان کے احتجاج سے تاجروں اور صنعتوں کو جو نقصان ہوگا، وہ کون پورا کرے گا؟
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے احتجاج میں کبھی 126 دن دھرنا دے کر شہر بند نہیں کیا گیا اور نہ ہی دھرنا دے کر چین کے صدر کا دورہ روکا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کے لیے پاک سیکریٹریٹ کو بلاک نہیں کرنے دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے صوبے میں احتجاج کریں اور پشاور کو بند کریں۔ ’یہ کیا بات ہوئی کہ آپ آتے ہیں اور اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں۔‘
’پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے؟‘
عطا اللہ تارڑ نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی میں فیصلہ ساز کون ہے اور حکومت کس سے بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کی پی ٹی آئی میں کوئی سنتا ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ بندی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن (آئی ایس ایف) کررہی ہے، جس کا پوری دنیا کو پتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں جو دو، تین لوگ مذاکرات کی بات کرتے ہیں، ان کے پاس کیا اختیار ہے؟
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان لوگوں سے مذاکرات کا کوئی جواز اور فائدہ نہیں، کیونکہ ان کی زبان پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
’سومنات والے بیان دینے والے یہ لوگ کون ہیں؟‘
عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر کے سومنات والے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ کون ہیں اور کہاں سے سوچتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع
افغانستان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہو جس کے لیے افغان سرزمین استعمال ہوئی ہو تو اس کا جواب دیا گیا۔ ان کے مطابق جواب میں افغان دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔














