’دنیا 5 سے بڑی ہے‘ ، اردوان کا سلامتی کونسل سے ویٹو اختیار ختم کرنے کا مطالبہ

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مستقل ارکان کو حاصل ویٹو کا اختیار ختم کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی نظام کو موجودہ دور کی سیاسی، معاشی اور جغرافیائی حقیقتوں کی بہتر عکاسی کرنا چاہیے۔

بلومبرگ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ وبائی امراض، توانائی کے بحران، رسد کے نظام میں رکاوٹوں اور علاقائی تنازعات سمیت حالیہ بحرانوں نے ثابت کیا ہے کہ عالمی مسائل کا حل چند ممالک کے دارالحکومتوں کے فیصلوں تک محدود نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل اب بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے ڈھانچے کی عکاسی کرتی ہے، اس لیے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور جواب دہ نظامِ نمائندگی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے اردوان کا ٹرمپ سے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور، امن کوششوں کی حمایت کی پیشکش

ترک صدر نے کہا کہ انقرہ کا مؤقف ’دنیا 5 سے بڑی ہے‘ عالمی نظام میں ذمہ داریوں کی وسیع تر تقسیم کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سلامتی کونسل میں محض نئے مستقل ارکان کا اضافہ فیصلہ سازی کے اختیار کے ارتکاز کا مسئلہ حل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کسی بھی ملک کو مستقل طور پر عالمی برادری کی اکثریت کی رائے روکنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے غزہ سے یمن تک، ترکیہ علاقائی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم: اردوان

اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے کردار کو مضبوط بنانے اور سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کا نظام ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان جنرل اسمبلی کے ذریعے مقررہ مدت کے لیے منتخب کیے جائیں اور دوبارہ انتخاب کے خواہش مند ممالک کو جنرل اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرنا ہو۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن، معاشی انصاف اور ترقی پذیر ممالک کے حقوق کے لیے مختلف خطوں کے ممالک کو مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp